30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی نہ تو عامل کو یہ جائز ہے کہ ایک جگہ بیٹھ جائے اور لوگوں سے کہے اپنے اپنے مال جانور وغیرہ یہاں لاکر مجھے دکھاؤ اور حساب سے زکوۃ دو کیونکہ اس میں مال والوں کو سخت دشواری ہوگی اور نہ مال والوں کو یہ جائز کو اپنے جانور وغیرہ بکھیردیں،دور دور بھیج دیں کہ عامل انہیں گننے کے لیے دوڑا پھرے کہ اس میں عامل کو بہت تکلیف ہے بلکہ عامل لوگوں کے ریوڑوں اور باغوں وکھیتوں میں جاکر ہر ایک کی زکوۃ وصول کرے۔سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے۔
|
1787 -[16] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاة فِيهِ حَتَّى يحول عيه الْحَوْلُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ جَمَاعَةٌ أَنَّهُمْ وَقَفُوهُ على ابْن عمر |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مال حاصل کرے تو اس میں زکوۃ نہیں حتی کہ اس پر سال گزر جائے ۱؎(ترمذی)اور ایک جماعت نے اس حدیث کو حضرت ابن عمر پر موقوف کیا۲؎ |
۱؎ یعنی ادائے زکوۃ اور وجوب زکوۃ کے لیے کوئی مہینہ یا تاریخ مقرر نہیں جیساکہ پنجاب میں ماہ رجب کے اور کاٹھیاواڑ میں ماہ رمضان کو زکوۃ کا مہینہ سمجھا گیا ہے بلکہ جب مال پر سال گزرے گا زکوۃ واجب ہوگی۔خیال رہے کہ سال گزرنا زکوۃ کے لیے شرط وجوب ہے لہذا اگر کوئی مالک نصاب ہوتے ہی زکوۃ دیناشروع کردے اور سال پر حساب کرے یا چند سالوں کی زکوۃ ایک دم ادا کردے تو جائز ہیں اس حدیث کے خلاف نہیں،نیز اصل نصاب پر سال گزرنا ضروری ہے زائد پر ضروری نہیں،لہذا گر کسی کے پاس گیارہ مہینے تک ہزار روپے رہے اور بارھویں مہینہ دس ہزار روپے اور آگئے تو یہ گیارہ ہزار کی زکوۃ دے گا اگرچہ اس دس ہزار پر تیس دن ہی گزرے ہیں کیونکہ اصل نصاب یعنی ہزار پر سال گزر چکا،یہ مسئلہ بھی اس حدیث کے خلاف نہیں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر اور مرقات میں اسی مقام پر دیکھو،اگر ہر پیسہ پر الگ سال گزرنا شرط ہوتو تاجروں کو مصیبت آجائے کیونکہ ان کے پاس روزانہ سینکڑوں روپے آتے جاتے رہتے ہیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مَنِ اسْتَفَادَ میں بڑی وسعت ہے،مال جیسے بھی حاصل ہو کماکر وراثت سے یا کسی کے عطیہ سے بہرحال سال کے بعد اس میں زکوۃ ہے کمانے ہی کی شرط نہیں۔
۲؎ یعنی خود ان کا قول نقل کیا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہ کیا اور ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ ایسی موقوف حدیثیں جن میں قیاس کو دخل نہیں مرفوع کے حکم میں ہیں،یعنی ان صحابی نے حضور علیہ السلام سے سن کر ہی کہی ہیں۔
|
1788 -[17] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيل صَدَقَة قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ: فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت علی سے کہ حضرت عباس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوۃ فرض ہونے سے پہلے ادا کردینے کے متعلق پوچھا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دی ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ اور دارمی) |
۱؎ یعنی اگر کسی کے پاس بقدر نصاب مال آگیا تو سال گزرنے سے پہلے اس کی زکوۃ دے سکتے ہیں کیونکہ سال گزرنا زکوۃ کے لیے شرط وجوب ہے اس کا سبب مال ہے،اسی طرح فطرہ کہ عید سے پہلے ادا کیا جاسکتا ہے،نماز کے لیے وقت وجوب کا سبب ہے اس لیے وہ وقت سے پہلے نہیں ہوسکتی۔امام مالک کے ہاں زکوۃ بھی سال گزرنے سے پہلے نہیں دے سکتے،یہ حدیث امام ابوحنیفہ اور جمہور علماء کی دلیل ہے۔
|
1789 -[18] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: «أَلَا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ فِيهِ وَلَا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مقَال: لِأَن الْمثنى بن الصَّباح ضَعِيف |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا کہ جو کسی یتیم کا والی ہو جس کے پاس مال ہو تو وہ اس میں تجارت کرے اسے چھوڑے نہ رکھے کہ زکوۃ کھا جائے ۱؎ (ترمذی)فرمایا ترمذی نے کہ اس کی اسناد میں کچھ گفتگو ہے کیونکہ مثنٰی بن صباح ضعیف ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع