30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۶؎ یہ تمام خوبیاں قرآن کریم سے وہ حاصل کر سکتا ہے جو اسے محض اپنی رائے سے نہ سمجھے بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم سے سمجھے۔ورنہ آج ہربے دین قرآن کریم ہی کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کررہاہے۔
۱۷؎ اس حدیث کی اسناد میں ایک راوی حارث ابن اعور تھے وہ اگرچہ حضرت علی کے ساتھ رہے ہیں اور ان سے چار حدیثیں بھی روایت کی ہیں،مگر اسے نسائی نے کہا یہ قوی نہیں،شعبی نے کہا یہ جھوٹاتھا مگر ابوداؤد نے فرمایا یہ بڑ ا فقیہ علم فرائض کا بڑا عالم اور بہت نسب دان تھا،بہرحال اگرچہ الفاظ حدیث میں کچھ ضعف ہو مگر معنے حدیث بالکل صحیح ہیں نیز فضائل میں حدیث ضعیف بھی قبول(مرقات،لمعات)
|
2139 -[31] وَعَن معَاذ الْجُهَنِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت معاذ جہنی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے ۱؎ تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا ۲؎ جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی جو اگر سورج تم میں ہوتا تودنیاوی گھروں میں ہوتی ۳؎ تو اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو اس پر عامل ہو۴؎(احمد،ابوداؤد) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں قرآن پڑھنے سے مراد روزانہ اس کی تلاوت کرنا ہے اور ہوسکتا ہے کہ قرآن پڑھنے سے مراد علوم قرآن سیکھنا ہو یعنی عالم باعمل کا ثواب وہ ہے جو آگے مذکور ہے۔
۲؎ یعنی عالم باعمل کے مؤمن ماں باپ کا درجہ یہ ہوگا خواہ انہوں نے اسے اپنی کوشش سے پڑھا ہو یا نہیں کیونکہ حدیث مطلق ہے پڑھانے کی قید نہیں۔
۳؎ یعنی اگر سورج زمین پر ہوتا تو بتاؤ اس کی چمک دمک روشنی تمہارے گھروں میں کتنی ہوتی اس سے زیادہ اس تاج کے موتی چمکتے ہوں گے۔
۴؎ یعنی پھر عالم باعمل کے متعلق سوچو کہ اس کا درجہ قیامت میں کیا ہوگا،وہ تو ہمارے خیال سے وراء ہے۔
|
2140 -[32] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّار مَا احْتَرَقَ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر قرآن کھال میں رکھ کر آگ میں ڈالا جائے تو وہ نہ جلے ۱؎(دارمی) |
۱؎ اس حدیث پاک کی بہت شرحیں کی گئی ہیں،قوی تر شرح یہ ہے کہ آگ سے مراد دوزخ کی آگ ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی عظمت یہ ہے کہ اگر بالفرض کسی کھال میں رکھ کر اسے دوزخ میں ڈالو تو نہ قرآن پاک کا کاغذ جلے نہ وہ کھال تو جس مؤمن کے دل میں اور دماغ میں قرآن پاک کے مضامین ہوں جسم پر قرآنی عمل ہو وہ دوزخ میں کیسے جل سکے گا،بعض نے فرمایا کہ قرآن کریم کا یہ معجزہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ظاہر تھا جیسے حضرت جابر کے ہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے کپڑے کے دستر خوان سے ہاتھ و منہ پونچھ لیے تھے تو وہ آگ میں نہ جلتا تھا مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گفت روزے مصطفے دست و دہاں پس بما لید اندرایں دستار خواں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع