دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۸؎ غیر قرآن سے مراد علوم عقلیہ یا کفار کی پیر وی ہے حدیث و فقہ غیر قرآن نہیں کہ یہ دونوں قرآن کریم کی شرحیں ہیں جیسے صرف و نحو قرآن پاک کے لیے ممدو معاون ہیں لہذا اس حدیث سے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑسکتے۔

۹؎ یہ تمام چیزیں قرآن کریم کے اوصاف بھی ہیں اور اس کے نام بھی قرآن پاک میں خود یہ نام موجود ہیں رسی کے ذریعہ بکھروں کو جمع کیا جاتا ہے رسی کے ذریعے کنوؤں سے گروی کو اوپر نکالا جاتا ہے قرآن کریم میں یہ ساری صفات موجود ہیں رب تعالٰی نے فرمایا:"وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیۡعًا"۔وہاں حبل اﷲ سے مراد قرآن پاک ہے یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم یا دونوں۔ ذکر کے معنے عزت،شہرت،نصیحت تذکرہ ہیں قرآن کریم میں یہ ساری صفات موجود ہیں کہ اسی قرآن کی وجہ سے اہلِ عرب کی دنیا میں شہرت و عزت ہوگئی اس میں ہر قسم کی نصیحتیں اور ہر قسم کے تذکرے ہیں یہ خدا تعالٰی تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے جو اسے چھوڑ دے وہ رب تعالٰی تک نہیں پہنچ سکتا۔

 ۱۰؎ یعنی جو قرآن کریم سے صحیح طور پر استدلال کرے گا وہ اپنے خیالات کو بگڑنے سے محفوظ رکھے گا،اگر کوئی اس سے غلط استدلال ہی کرے اور گمراہ ہوجائے تو قرآن کریم کا قصور نہیں بلکہ اس کے استدلال کا قصور ہے قرآن کریم کو حدیث و فقہ کی روشنی میں سمجھو لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ "یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا"۔نیز اس حدیث سے موجود زمانہ کے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑ سکتے کہ وہ قرآن کریم کو صحیح طور سے سمجھتے ہی نہیں بعض شارحین نے اس جملہ کے معنے یہ کئے ہیں کہ قرآ ن کریم کو گمراہ لوگ بدل نہیں سکتے،یہ اسی طرح محفوظ رہے گا کیوں نہ ہو کہ رب تعالٰی اس کا حافظ ہے فرماتا ہے:"اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ"۔اس صورت میں بہ کی ب تعدیہ ہے تاریخ شاہد ہے کہ قرآن کریم بدلنے کی بہت کوششیں کی گئیں،مگر بدلنے والے مٹ گئے قرآن کریم نہ بدل سکا۔

۱۱؎ یعنی قرآن مجید کی عبارت دوسرے کلاموں سے ایسے ممتاز ہے کہ دوسرا عربی کلام خواہ کتنا ہی فصیح و بلیغ ہو اس سے خلط نہیں ہوسکتا۔مخلوق کا کلام خالق کے کلام سے مشتبہ نہیں ہوسکتا۔یا اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ یہ کلام مسلمانوں کی زبان پر گراں نہیں پڑتا۔آسانی سے پڑھ لیاجاتاہے بلکہ حفظ کرلیا جاتاہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ

۱۲؎ یعنی قرآن کریم کے اسرار و نکات کبھی ختم نہیں ہوتے،علماء جب بھی غور کرتے ہیں اس سے نئے مسائل و اسرار معلوم کرتے ہیں،قرآن کریم کی کنہ تک کوئی نہیں پہنچتا،یہ ان موتیوں کا وہ سمندر ہے جس کے موتی کبھی ختم نہیں ہوتے۔

 ۱۳؎ قرآ ن کریم کا کھلا معجزہ ہے کہ بغیر معنے سمجھے بھی اس کا پڑھنا اور سننا لذت دیتا ہے اور عمر بھر پڑھو ہر بار نیا لطف دیتا ہے اس سے دل اکتاتا نہیں دوسرے کلام کتنے ہی اعلیٰ ہوں مگر چند بار پڑھ لینے کے بعد دل اکتا جاتاہے۔

۱۴؎ یہ جملہ پہلے جملوں کی یا تو شرح ہے یا دلیل یعنی اس سے علماء سیر نہیں ہوتے،بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں پڑ تا کیونکہ اس کے عجیب مضامین کبھی ختم نہیں ہوتے ہر بار عجیب لطف دیتاہے۔

۱۵؎ یہ نصیبین کے جنات کا واقعہ ہے جو قرآن شریف نے سورۂ جنّ میں بیان فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے سوق عکاظ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرآن کریم سنا تو اپنی قوم میں جاکر یہ گفتگو کی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن