30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2138 -[30] وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ قلت نعم قَالَ: أما إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَلا إِنَّهَا سَتَكُون فتْنَة» . فَقلت مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كتاب الله فِيهِ نبأ مَا كَانَ قبلكُمْ وَخبر مَا بعدكم وَحكم مَا بَيْنكُم وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلِقُ على كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا يَنْقَضِي عَجَائِبُهُ هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا (إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنا بِهِ) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِث مقَال |
روایت ہے حضرت حارث سے فرماتے ہیں میں مسجد میں گزرا تو لوگ بات چیت میں مشغول تھے ۱؎ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۲؎ میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو فرمایا کیا لوگ یہ حرکت کرنے لگے میں بولا ہاں فرمایا آگاہ رہو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب فتنے ہوں گے ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ان سے رہائی کی سبیل کیا ہے ۴؎ فرمایا اﷲ تعالٰی کی کتاب ۵؎ جس میں تمہارے اگلوں کی خبریں اور پچھلوں کی خبریں اور تمہارے آپس کے فیصلے ہیں قرآن فیصلہ کن ہے ۶؎ وہ غیر درست نہیں ہے جو ظالم اسے چھوڑ دے گا اﷲ اس کے ٹکڑے اڑا دے گا۷؎ اور جو اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اﷲ اسے گمراہ کر دے گا ۸؎ وہ اﷲ کی مضبوط رسی ہے اور وہ حکمت والا ذکر ہے وہ سیدھا راستہ ہے ۹؎ قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خیالات بگڑتے نہیں ۱۰؎ اور جس سے دوسری زبانیں مشتبہ نہیں ہوتیں ۱۱؎ جس سے علماء سیر نہیں ہوتے ۱۲؎ جو زیادہ دہرانے سے پرانا نہیں پڑتا ۱۳؎ جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ۱۴؎ قرآن ہی وہ ہے کہ جب اسے جنات نے سنا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو صلاحیت کی رہبر ی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۱۵؎ جو قرآن کا قائل ہو وہ سچا ہے جس نے اس پر عمل کیا ثواب پائے گا اور جو اس پر فیصلہ کرے گا منصف ہوگا اور جو اس کی طرف بلائے گا وہ سیدھی راہ کی طرف بلائے گا۱۶؎ ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مجہول ہے اور حارث میں کچھ گفتگو ہوئی ہے ۱۷؎ |
۱؎ احادیث سے مراد دنیاوی باتیں ہیں جو مسجد میں حرام ہیں اگرچہ جائز باتیں ہی ہوں،وہاں غیبت و جھوٹ وغیرہ حرام گفتگو تو اور سخت حرام ہے،احادیث سے مراد احادیث نبویہ نہیں جیساکہ بعض جاہلوں نے سمجھا۔مسجد میں حدیث شریف و فقہ وغیرہ دینی علوم کا درس بہترین عبادت ہے،اصحاب صفہ مسجد نبوی میں رہتے تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سارے دینی علوم سیکھتے تھے،یہ حار ث تابعی ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدام خاص میں سے ہیں۔
۲؎ اگرچہ اس وقت اور صحابہ بھی موجود تھے،مگر آپ خصوصیت سے حضرت علی کے پاس گئے کہ حضرت علی دروازۂ شہر نبوت ہیں "انا مدینۃ العلم وعلیٌّ بابہا"یہ حدیث اگرچہ اسناد مقررہ سے ضعیف ہے مگر متن حدیث صحیح ہے۔مرقات
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں فتنوں سے مراد وہ لڑائیاں اور جھگڑے ہیں جو صحابہ میں رونما ہوئے اور مسجدوں میں دنیاوی باتیں کرنا ان فتنوں کے ظہور کی علامت ہے یعنی اب وہ فتنے قریب آگئے کیونکہ مسجد میں دنیاوی باتیں ہونے لگیں،بعض نے اس سے مراد آگ کا یا دجال کا نکلنا مراد لیا مگر پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں۔ خیال رہے کہ فتنہ عام مصیبت یا آزمائش کو کہتے ہیں۔
۴؎ یعنی ایسا کون سا کام کیا جائے جس سے ان فتنوں سے مسلمان بچا رہے۔
۵؎ قرآن کریم پر عمل یا اس کی تلاوت میں مشغولیت،معلوم ہوا کہ بعض نیکیوں کی برکت سے انسان دنیاوی آفات سے محفوظ رہتا ہے،درود شریف کی کثرت موت و زندگی کے فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے بفضلہ تعالیٰ۔
۶؎ یعنی قرآن شریف ایسی جامع کتاب ہے کہ اس میں گزشتہ امتوں کے واقعات آئندہ تا قیامت بلکہ جنت و دوزخ کے حالات بھی ہیں اور عبادات و معاملات و سیاسیات بھی ہیں۔
۷؎ یہ جملہ یا خبر ہے یا بددعا یعنی جو شخص قرآن کے خلاف چلے خدا اس کے ٹکڑے اڑا دے گا یا جو اس کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرے گا خدا تعالٰی اسے برباد کردے گا یعنی وہ کافر ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ قرآن شریف کو ناحق جان کر اسے چھوڑ دینا کفر ہےاور اس کو حق جان کر عمل نہ کرنا فسق اور مجبورًا اس پر عمل نہ کرسکنامعذوری ہے جس پر پکڑ نہیں یہاں پہلی صورت مراد ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع