دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں حرف سے مراد وہ حرف ہے جو جدا جدا پڑھا جائے لہذا الٓـمٓ تین حرف ہیں۔چنانچہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف مرقات۔ مگر قوی تر یہ ہے کہ حرف سے مراد مطلقًا حرف ہے علیحدگی کے قابل ہوں یا نہ ہوں کیونکہ حدیث پاک میں کوئی قید نہیں،لہذا قرآن کریم میں لفظ اﷲ پڑھنے سے چالیس نیکیاں ملیں گی خیال رہے کہ قر آن پاک میں خبیث چیزوں کے نام بھی ہیں جیسے ابی لہب،ابلیس شیطان،خنزیر،وغیرہ مگر ان ناموں کی تلاوت پر بھی ثواب اسی حساب سے ہوگا کہ یہ حروف یا ان کے ترجمے برے نہیں،بلکہ ان کے مصداق خبیث ہیں یہ تحقیق خیال میں رکھی جائے۔

۲؎ اس فرمان میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"یہ تو ادنی ثواب ہے، آگے رب تعالٰی کا فضل ہماری شمار سے باہر ہے"وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔مرقات میں فر مایا کہ یہ ثواب تو عام تلاوتوں کا ہے،مکہ معظمہ و مدینہ میں تلاوت کا ثواب اس حدیث سے معلوم کر و کہ مکہ معظمہ میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے اور مدینہ پاک میں پچاس ہزار۔

 ۳؎ چونکہ عربی میں حرف،حرف معانی،حرف مبانی، یعنی حرف ہجاء اور جملہ مفیدہ مطلقًا کلمہ سب کو ہی کہا جاتا ہے اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود یہ تفسیر فرمائی۔

 ۴؎ الف،لام،میم کو حرف فرمانا مجازًا ہے ورنہ یہ حرفوں کے نام یعنی اسمائے حروف ہیں اس میں لطیف اشارہ اس طرف ہے کہ الف میں تین حرف ہیں،ا،ل،ف مگر اس کو ہم ایک حرف ہی مانتے ہیں کہ قرآنی تلاوت میں یہ ایک حرف ہوکر آتا ہے،اگرچہ اس کے اجزا تین ہیں بعض شارحین نے کہا کہ الم تر کیف میں الم کی تیس نیکیاں ہیں اور"الٓـمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ"میں الٓـمّٓ کی نوے نیکیاں ہیں،کیونکہ اس میں حرف نو ہیں اسمائے حروف اگرچہ تین ہیں مگر یہ قول اس حدیث کے خلاف ہے کیونکہ مکتوبی یعنی لکھے ہوئے حرف مراد ہیں نہ کہ مقروئی یعنی پڑھے ہوئے حر ف اور مکتوبی حرف سورۂ فیل و بقرہ میں یکساں ہیں۔

2138 -[30]

وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ قلت نعم قَالَ: أما إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَلا إِنَّهَا سَتَكُون فتْنَة» . فَقلت مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كتاب الله فِيهِ نبأ مَا كَانَ قبلكُمْ وَخبر مَا بعدكم وَحكم مَا بَيْنكُم وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلِقُ على كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا يَنْقَضِي عَجَائِبُهُ هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا (إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنا بِهِ)

مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِث مقَال

روایت ہے حضرت حارث سے فرماتے ہیں میں مسجد میں گزرا تو لوگ بات چیت میں مشغول تھے ۱؎ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۲؎ میں نے آپ کو اس کی  خبر دی تو فرمایا کیا لوگ یہ حرکت کرنے لگے میں بولا ہاں فرمایا آگاہ رہو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب فتنے ہوں گے ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ان سے رہائی کی سبیل کیا ہے ۴؎ فرمایا اﷲ تعالٰی کی کتاب ۵؎ جس میں تمہارے اگلوں کی خبریں اور پچھلوں کی خبریں اور تمہارے آپس کے فیصلے ہیں قرآن فیصلہ کن ہے ۶؎ وہ غیر درست نہیں ہے جو ظالم اسے چھوڑ دے گا اﷲ اس کے ٹکڑے اڑا دے گا۷؎ اور جو اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اﷲ اسے گمراہ کر دے گا ۸؎ وہ اﷲ کی مضبوط رسی ہے اور وہ حکمت والا ذکر ہے وہ سیدھا راستہ ہے ۹؎ قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خیالات بگڑتے نہیں ۱۰؎ اور جس سے دوسری زبانیں مشتبہ نہیں ہوتیں ۱۱؎ جس سے علماء سیر نہیں ہوتے ۱۲؎ جو زیادہ دہرانے سے پرانا نہیں پڑتا ۱۳؎ جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ۱۴؎ قرآن ہی وہ ہے کہ جب اسے جنات نے سنا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو صلاحیت کی رہبر ی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۱۵؎ جو قرآن کا قائل ہو وہ سچا ہے جس نے اس پر عمل کیا ثواب پائے گا اور جو اس پر فیصلہ کرے گا منصف ہوگا اور جو اس کی طرف بلائے گا وہ سیدھی راہ کی طرف بلائے گا۱۶؎ ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مجہول ہے اور حارث میں کچھ گفتگو ہوئی ہے ۱۷؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن