30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2134 -[26] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارَتْقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَة تقرؤها ". رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قرآن والے سے کہا جائے گا ۱؎ پڑھ اور چڑھ ۲؎ اور یوں ہی آہستگی سے تلاوت کر جیسے دنیا میں کرتا تھا آج تیرا ٹھکانہ و مقام وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ قرآن والے سے مر اد وہ مسلمان ہے جو ہمیشہ تلاوت کرتا ہو اور اس پر عامل ہو،وہ شخص نہیں جو قرآن پڑھتا ہو،اور قرآن اس پر لعنت کرتا ہو کہ یہ تلاوت تو عذاب الٰہی کا باعث ہے،بعض آریہ اور عیسائی بھی قرآن پاک پر اعتراضات کرنے کے لیے قرآن پاک پڑھتے بلکہ حفظ تک کرلیتے ہیں،پنڈت کالی چرن چودہ پاروں کا حافظ ہوا۔(مرقات)
۲؎ جنت کے درجات اوپر تلے ہیں جس قدر درجے کی بلندی،اسی قدر بہتر ان شاء اﷲ اس دن تلاوت قرآن مؤمن کے لیے پروں کا کام دے گی،یا اس سے مراتب قرب الٰہی میں ترقی کرنا مراد ہے،یعنی تلاوت کرتا جا اور مجھ سے قریب تر ہوتا جا۔
۳؎ یعنی جہاں تیرا پڑھنا ختم،وہاں تیرا چڑھنا ختم،وہاں اسی قدر تلاوت کرسکے گا جس قدر تلاوت دنیا میں کرتا تھا اور جس طرح آہستہ یا جلدی یہاں تلاوت کرتا تھا اسی طرح وہاں کرے گا۔اس سے چند مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت کے چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ درجے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی آیات اتنی ہی ہیں اور ہر آیت پر ایک درجہ ملتا ہے،اگر درجے اس سے کم ہوں،تو یہ حساب کیسے درست ہو اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان مرقات۔ دوسرے یہ کہ جنت میں کوئی عبادت نہ ہوگی سوائے تلاوت قرآن کے،مگر یہ تلاوت لذت اور ترقی درجات کے لیے ہوگی،جیسے فرشتوں کی تسبیح۔ تیسرے یہ کہ دنیا میں تلاوت قرآن کر یم کا عادی بعد موت ان شاءاﷲ حافظ قرآن ہوجائے گا،ورنہ یہ شخص وہاں بغیر قرآن دیکھے سارا قرآن کیسے پڑھتا۔ چوتھے یہ کہ بغیر ترجمہ سمجھے بھی تلاوت بہت مفید ہے کہ یہاں تلاوت کو مطلق رکھا گیا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ قرآن میں تفکر کرنا محض تلاوت سے افضل ہے،اسی لیے حضرت صدیق اکبر حفاظ صحابہ سے افضل ہوئے جنت میں ساری امت سے اونچے درجے میں وہ ہی ہوں گے۔
|
2135 -[27] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طر ح ہے ۱؎ ترمذی،دارمی،اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ جوف کے حقیقی معنے ہیں پیٹ،اسی لیے معتل العین کو اجوف یعنی خالی پیٹ والا کہتے ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ"مگر یہاں جوف سے مراد دل یا سینہ ہے گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے دل کی آبادی قرآن سے باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔شعر
آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے جویادسے غافل ہوا ویران ہےبربادہے
|
2136 -[28] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ. وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے جسے قرآن مجید میرے دوسرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے روک دے ۱؎ اسے میں مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۲؎ اور اﷲ تعالٰی کے کلام کی فضیلت تمام کلاموں پر ویسی ہی ہے جیسے اﷲ کی عظمت اپنی خلق پر۳؎ ترمذی دارمی،بیہقی شعب الایمان۴؎ اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع