30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2130 -[22] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: (قُلْ هُوَ الله أحد)قَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وروى البُخَارِيّ مَعْنَاهُ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ میں اس سورۃ"قل ھو اﷲ احد"سے بڑی محبت کرتا ہوں سرکار نے فرمایا تیری یہ محبت تجھے جنت میں پہنچادے گی ۲؎(ترمذی)اور بخاری نے اس کے معنے کی روایت کی ۳؎ |
۱؎ اس عرض کرنے والے کا نام کلثوم یا کرزم ہے،پہلا قول زیادہ قوی ہے(مرقات)
۲؎ سبحان اﷲ! کیسا مختصر اور جامع جواب ہے یعنی تو اس سورت سے محبت کی بناء پر اﷲ کا پیارا بن جائے گااور اﷲ کے پیارے کی جگہ جنت ہی تو ہے،بعض لوگ سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ،وَالضُّحٰی اور سورۂ فتح واحزاب سے بڑی محبت کرتے ہیں اس لیے کہ یہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کی سورتیں ہیں،ان کی یہ محبت بھی ان شاءاﷲ جنتی ہونے کا ذریعہ ہے۔
۳؎ یہ مصنف پر اعتراض ہے کہ اس نے پہلی فصل میں ترمذی کی حدیث نقل کی،حالانکہ بخاری میں اس کی مثل موجودتھی۔چنانچہ بخاری نے حضرت انس سے تعلیقًا ایک بڑا واقعہ روایت کیا کہ ایک انصاری مسجد قباء شریف میں امام تھے وہ ہر رکعت میں الحمد پڑھ کر پہلے سورۂ اخلاص پڑھتے پھر دوسری سورت اس پر مقتدیوں نے اعتراض کیا،انہوں نے فرمایا کہ میں امامت چھوڑ دوں گا مگر سورۂ اخلاص پڑھنا نہیں چھوڑوں گا۔چونکہ وہ افضل صحابہ میں سے تھے اس لیے لوگ ان کی امامت کو غنیمت جانتے تھے،ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لائے تب یہ مقدمہ بارگاہ عالی میں پیش کیا گیا۔جس پر سرکار نے ان امام کا بیان لے کر یہ فیصلہ دیا۔(مرقات)اس حدیث کو بزاز اور بیہقی نے بھی روایت کیا۔
|
2131 -[23] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ (قل أعوذ بِرَبّ الفلق)و (قل أعوذ بِرَبّ النَّاس)رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم دیکھتے نہیں کہ آج رات وہ آیتیں اتری ہیں جس کی مثل دیکھی نہ گئیں ۱؎ "قل اعوذ برب الفلق" اور"قل اعوذ برب الناس"۲؎(مسلم) |
۱؎ اَلَم تَرَ میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے اور یہ فرمان اظہار تعجب یا ان سورتوں کی اہمیت دکھانے کے لیے ہے یعنی تعوذ اور پناہ لینے کے متعلق جتنی آیتیں ہیں ان سب میں یہ سورتیں افضل ہیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ قل ھو اﷲ احد تو ان سورتوں میں بھی افضل ہے۔
۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ بسم اﷲ سورت کا جزء نہیں کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اﷲ کا ذکر نہ فرمایا قل اعوذ سے سورت کی ابتداء بتائی نیز پہلی وحی اقراباسم ربك ہے بسم اﷲ وہاں بھی نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ یہ دونوں سورتیں قرآن میں ہیں،اسی پر امت کا اجماع ہے لہذا جو انہیں قرآن نہ مانے وہ کافر ہے،وہ جو کہا گیا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور ابی ابن کعب نے انہیں قرآن نہ مانا غلط ہے ان بزرگوں پر تہمت ہے۔(مرقات)
|
2132 -[24] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فيهمَا (قل هُوَ الله أحد)و (قل أعوذ بِرَبّ الفلق)و (قل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ)ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاث مَرَّات "وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ الْمِعْرَاج إِن شَاءَ الله تَعَالَى |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات میں جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے ۱؎ تو اپنے ہاتھ جمع کرکے ان میں پھونکتے ۲؎ جن میں"قل ھو اﷲ احد"اور"قل اعوذ برب الفلق"اور"اعوذ برب الناس"پڑھتے ۳؎ پھر جسم کے جس حصہ تک ہوسکتا وہ ہاتھ پھیرتے ۴؎ اپنے سر مبارک اور چہرے پاک کے سامنے والے حصے سے شروع فرماتے یہ تین بار کرتے تھے ۵؎ مسلم،بخاری اور حضرت ابن مسعود کی یہ حدیث کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی الخ ان شاءاﷲ باب المعراج میں بیان کریں گے۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع