30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1784 -[13] وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ قَالَ: قُلْنَا: أَنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا أَفَنَكْتُمُ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُونَ؟ قَالَ: «لَا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت بشیر ابن خصاصیہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہم نےعرض کیا کہ زکوۃ وصول کرنے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں تو کیا ہم ان کی زیادتی کی بقدر اپنے مال چھپالیا کریں فرمایا نہیں۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ کے والد کا نام معبد یا یزید ہے،ان کی کنیت خصاصیہ ہے،خصاصیہ ان کی ماں کا نام تھا کیونکہ وہ قبیلہ خصاص کی تھیں جو خاندان ازد کا ایک مشہور قبیلہ ہے۔
۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عاملوں کی شکایت کرنے والوں کا منشاء یہ تھا کہ انہیں کچھ نصاب چھپالینے اور زکوۃ پوری ادا نہ کرنے کی اجازت دے دی جائے اور اگر اجازت دے دی جاتی تو یہ سلسلہ ایسا بڑھ جاتا کہ دنیا سے زکوۃ ہی مٹ کر رہ جاتی اس لیے فرمایا گیا چھپاؤ مت،اگر وہ زیادہ مانگیں تو ان سے مسئلہ شرعی پوچھو نہ مانیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرو۔
|
1785 -[14] وَعَن رَافع بن خديح قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ زکوۃ کا سچا عامل اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے حتی کہ اپنے گھر واپس آجائے ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی) |
۱؎ یعنی جیسے مجاہد جاتے آتے ہر حال میں عبادت کا ثواب پاتاہے ایسے ہی انصاف والا عامل ہر حال میں ثواب پائے گا کیونکہ مجاہد اسلام کے پھیلانے کا ذریعہ ہے اور یہ عامل اسلامی قانون پھیلانے،مالداروں کو ان کے فریضہ سے فارغ کرنے اور فقراء کو ان کا حق دلانے کا ذریعہ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نیت خیر ہو تو دینی خدمت پر تنخواہ لینے کی وجہ سے اس کا ثواب کم نہیں ہوتا،دیکھو ان عاملوں کو پوری اجرت دی جاتی مگر ساتھ میں یہ ثواب بھی تھا۔چنانچہ مجاہد کو غنیمت بھی ملتی ہے اور ثواب بھی،حضرات خلفائے راشدین سواء حضرت عثمان غنی کے سب نے خلافت پر تنخواہیں لیں مگر ثواب کسی کا کم نہیں ہوا،ایسے ہی وہ علماء یا امام و مؤذن جو تنخواہ لے کر تعلیم،اذان،امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں اگر ان کی نیت خدمت دین کی ہے تو ان شاءاﷲ ثواب بھی ضرور پائیں گے۔ہم نے اپنی تفسیر میں لکھاہے کہ شرعی مسئلہ بتانے کی اجرت لینا حرام ہے مگر فتویٰ لکھنے کی اجرت لینا جائز،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا یُضَآرَّکَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ"۔
|
1786 -[15] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا نہ مال ایک جگہ منگانا جائز ہے نہ دُور لےجانا لوگوں کے صدقات ان کے گھروں میں ہی لیے جائیں۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ خیال رہے کہ عمرو ابن شعیب کی اسناد والی احادیث مسلم،بخاری نے ہرگز نہ لیں کیونکہ یہ ہر جگہ اسی طرح اسناد کرتے ہیں، حالانکہ ان کی ملاقات اپنے دادا محمد ابن عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے نہیں اور نہ ان محمد کی ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لہذا یہ اسناد منقطع ہے متصل نہیں،یہ بحث پہلے بھی ہوچکی ہے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع