30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ خیال رہے کہ آسمان کے بے شمار دروازے ہیں،جن سے مختلف چیزیں آتی جاتی ہیں،بعض دروازوں سے رزق آتے ہیں، بعض سے عذاب بعض سے دعائیں و توبہ جاتی ہیں، بعض سے خاص فرشتے اترتے ہیں،ایک دروازہ وہ بھی ہے جو صرف معراج کی رات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھولا گیا،آج کا یہ دروازہ اس فرشتے کے لیے کھولا گیا تھا اس سے پہلے نہ یہ فرشتہ کبھی زمین پر آیا تھا اور نہ یہ دروازہ کبھی کھلا تھا۔
۳؎ یعنی نہ کسی کام کے لیے یہ زمین پر آیا نہ کسی پیغمبر کو کوئی پیغام سنانے کے لیے یہ فرشتہ صرف آج ہی آیااور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں آیا ہے اس فرشتہ کا نزول حضوانور صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت و عزت کے اظہار کے لیے ہے ورنہ یہ پیغام تو حضرت جبریل بھی عرض کرسکتے تھے۔
۴؎ چونکہ یہ دونوں سورتیں دنیا میں سیدھے راستہ کی ہادی ہیں اورپلصراط پر روشنی جس کے ذریعہ ان کی تلاوت کرنے والا آسانی سے اسے طے کرلے گا۔اس لیے انہیں نور فرمایا۔ خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم خود نور ہیں پھر آپ پر یہ نور اترے تو بفضلہٖ تعالٰی نورٌ علی نور ہوئے۔
۵؎ یعنی آپ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کو ایسی شاندار آیات و سورتیں نہ ملیں تو ریت انجیل وغیرہ میں ایسی شان کی آیت نہیں،یوں تو سارا قرآن شریف ہی ان کتب سے افضل ہے مگر یہ آیات بہت ہی افضل۔
۶؎ یعنی سورۃ بقر کا آخری رکوع"لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"تک۔
۷؎ یعنی ان آیات کے ہر حرف کی تلاوت پر آپ کو اور آپ کے صدقہ سے آپ کی امت کو خصوصی ثواب ملے گا علاوہ تلاوت کے ثواب کے کہ وہ ثواب تو قرآن شریف کے تمام حروف پر ہے۔(اشعہ)یا حرف سے مراد آیت ہے یعنی ان میں جو آیات دعا ہیں، ان میں سے ہر آیت قبول کی اور اس آیت کی دعا ان شاءاﷲ منظور ہوگی۔ مرقات ان دونوں جگہ میں بہت شاندار دعائیں ہیں۔
|
2125 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْآيَتَانِ مِنْ آخَرِ سُورَة الْبَقَرَة من قَرَأَ بهما فِي لَيْلَة كفتاه» |
روایت ہے حضرت ابو مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو انہیں رات میں پڑھے تو وہ اسے کافی ہیں ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی دکھ درد رنج و غم میں کافی ہیں کہ ان کا تلاوت کرنے والا ان شاءاﷲ دکھ درد سے محفوظ رہتا ہےاور اگر اتفاقًا کبھی آبھی جائیں تو اللہ مشکل حل کردیتا ہے یا تمام ورد وظیفوں کی طرف سے کافی ہیں،یا نماز تہجد میں جوان آیتوں کی تلاوت کیا کرے تو بہت سی تلاوت سے کافی ہیں نماز تہجد میں اس کی تلاوت ضرور کی جائے کہ بہت ہی مفید ہے ایک رکعت میں یہ آیات پڑھے،دوسری میں"اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ"سے لے کر"تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ"تک ان شاءاﷲ ان سے حضور قلبی بھی نصیب ہوگا اور بہت فیضان بھی میسر ہوگا۔اگر شروع رات میں بھی پڑھ لی جائیں اور تہجد میں بھی بہت مفید ہے۔
|
2126 -[18] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَفِظَ عشر آيَات من أول سُورَة الْكَهْف عصم من فتْنَة الدَّجَّال» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شروع سورہ کہف کی دس۱۰ آیتوں پر پابندی کرے ۱؎ وہ دجال سے بچ جائے گا ۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع