30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ جھوٹ سے توبہ کرچکا ہے اور اب سچ بول رہا ہے پہلے جھوٹا تھا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ جھوٹ کی خبر دی تھی اور اب سچ بول رہا ہے۔
۱۱؎ اس رحم کی وجہ ابھی عرض کردی گئی اس چھوڑ دینے میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پاک کی مخالفت نہیں ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آئندہ چھو ڑ دینے سے منع نہ کیا تھا۔
۱۲؎ خیال رہے کہ شیطان نے صرف ایک دفعہ یعنی دوسری بار میں ہی کہا تھاکہ میں اب نہ آؤں گا مگر حضرت ابوہریرہ فرمارہے ہیں کہ تو کہہ جاتا ہے میں نہ آؤں گا اس لیے شارحین نے فرمایا کہ یہاں تزعم مضارع ہے مگر بمعنی ماضی ہے یعنی تو کہہ گیا تھا اب نہ آؤں گا اور پھر آگیا یا حکمی و حقیقی دونوں طرح کہہ جانا مراد ہے یعنی تو پہلی بار میں حکمًا اور دوسری بار میں حقیقتًا کہہ گیا تھا کہ اب نہ آؤں گا لہذا یہ حدیث واضح ہے۔
۱۳؎ یعنی میں آپ پر ایک عمل مجرب بتا کر احسان کرتا ہوں آپ اس کے عوض مجھ پر یہ احسان کردیں کہ مجھے چھوڑ دیں کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے ابلیس کی اس خوشامد سے معلوم ہوا کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہوئے بہت گھبراتا ہے ورنہ وہ حاضر ہوجانے پر راضی ہوجاتاہے اب جس کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت نہ ہو وہ شیطان سے بدتر ہے شیطان یا تو خدا سے ڈرتاہے کہ کہتاہے:"اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ"یا جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی ہیبت چاہیے ڈاکٹر ا قبال یوں دعا کر تے ہیں۔شعر
مکن رسوا بروئے خواجہ مارا حساب من زچشم اونہاں گیر
۱۴؎ یعنی سونے کے لیے لیٹیں بستر پر یا فرش خاک پر یا تخت پر،بستر کا ذکر عرف کی بنا پر ہے اور سونا خواہ دن میں ہو یا رات میں۔
۱۵؎ یعنی خود رب تعالٰی یا اس کا مقرر کردہ،فرشتہ آپ کے جان و مال کی حفاظت کرے گا کہ گھر تو گر جانے آگ لگ جانے وغیرہ سے محفوظ رہے گا اور مال چوری وغیرہ سے امان میں رہے گا جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہے،یہ عمل بہت ہی مجرب ہے۔
۱۶؎ یعنی دینی یا دنیاوی نقصان پہنچانے کے لیے شیطان ابلیس آپ کے قریب نہ آسکے گا،مطلقًا قریب آنے کی نفی نہیں لہذا حدیث پریہ اعتراض نہیں رہا کہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ ہم آیۃالکرسی پڑھ کر سوتے ہیں پھربھی احتلام ہوجاتا ہے اور احتلام شیطان سے ہوتا ہے ہاں آیۃ الکرسی کی برکت سے شیطان نماز قضا نہ کراسکے گا کہ یہ دینی نقصان ہے یوں ہی اس کی برکت سے اولًا تو گھر میں چور سانپ وغیرہ آئیں گے نہیں اگر اتفاقًا آگئے تو شیطان اسے اس موقعہ پر غافل نہ کرسکے گا کہ اس میں دنیاوی نقصان ہے،ان شاءاﷲ آنکھ کھل جائے گی اور یہ شخص ان کے شر سے محفوظ رہے گا۔
۱۷؎ اس بار رحم کھا کر نہ چھوڑا بلکہ اس کے احسان کے عوض اور اس چھوڑ دینے میں بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہ تھی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہ کیا تھا۔
۱۸؎ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ شیطان قرآن شریف سے بھی واقف ہے اور آیات قرآنیہ کے احکام و اسرار واشارات سے بھی خبردار ہے،امام فخرالدین رازی نے فرمایا کہ شیطان ہر دین کے اچھے برے اعمال سے تفصیل وار واقف ہے اور ہر شخص کی نیت وارادہ پر مطلع ہے،اس کے بغیر وہ خلق کو بہکا نہیں سکتا،جب اس بہکانے والے کے علم کا یہ حال ہے تو خلق کے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا کیا پوچھنا۔دوا کی طاقت بیماری سے زیادہ چاہئیے قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع