30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2122 -[14] وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَك أعظم؟» . قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَك أعظم؟» . قَالَ: قُلْتُ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ القيوم) قَالَ فَضرب فِي صَدْرِي وَقَالَ: «وَالله لِيَهنك الْعلم أَبَا الْمُنْذر» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے ابو المنذر کیا جانتے ہو کہ تمہارے پاس کتاب اﷲ کی کون سی شاندار آیت ہے ۱؎ میں نے عرض کیا اﷲ رسول ہی جانیں فرمایا اے ابو المنذر کیا جانتے ہو تمہارے پاس کتاب اﷲ کی کون سی شاندار آیت ہے ۲؎ میں نے عرض کیا"اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم" ۳؎ تو حضور نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا تمہیں علم مبارک ہو ۴؎ اے ابوالمنذر (مسلم) |
۱؎ حضرت ابی ابن کعب اور آپ کے تین چچا زاد بھائی اس زمانہ میں پورے قر آن کریم کے حافظ تھے سوال یہ ہے کہ اے ابی ابن کعب بتاؤ جو قرآن کریم تم نے سارا حفظ کیا ہے اس میں بہت شاندار آیت کونسی ہے۔(مرقات)اس زمانہ میں قرآن کریم کی تلاوت اور اس کا حفظ بقدر نزول ہوتا تھا۔
۲؎ اعظم سے مراد اخروی ثواب اور دنیاوی فوائد میں زیادہ ہے،یہ زیادتی اضافی ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کسی حدیث میں کسی آیت کو اعظم فرمایا اور دوسری حدیث میں دوسری آیت کو۔
۳؎ پہلی بار نہ بتانے اور پھر بتادینے کی شارحین نے بہت وجوہ بیان کی ہیں فقیر کی نظر میں قوی وجہ یہ ہے کہ ان دو سوالوں کے درمیان کے وقفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل میں جواب بطور فیضان القاء فرمادیا پھر پوچھا تو آپ نے وہ ہی القاء کیا ہوا جواب عرض کردیا حضرات صوفیاء کبھی نظر سے کبھی سینہ پرہاتھ رکھ کر کبھی مرید کو سامنے بٹھا کر کبھی کوئی بات پوچھ کر فیض دیتے ہیں،ان طریقوں کی اصل یہ حدیث ہے(ازلمعات واشعہ)حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی ابن کعب کو نظر بھر کر دیکھا جس سے ان کے سینہ میں علوم کے دریا بہ گئے۔
۴؎ یہ فرمان ہمارے عرض کئے ہوئے مطلب کی تائید ہے یعنی اے ابی تمہیں یہ علم لدنی مبارک ہوکہ بغیر کتابیں پڑھے داتا کی دین اور راہبر کامل کی ا یک نگاہ کرم سے تمہیں سب کچھ مل گیا۔
|
2123 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ)حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم:«أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال».يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا ۱؎ تو ایک شخص آیا غلے سے لپ بھرنے لگا ۲؎ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا میں تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلوں گا ۳؎ وہ بولا میں محتاج ہوں میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۴؎ فرماتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا ۵؎ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ آج رات تمہارے قیدی کا کیا بنا ۶؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذر کیا اس پر میں نے رحم کیا تو اس کو رہا کردیا ۷؎ فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر لوٹے گا ۸؎ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ لوٹ کر آئے گا میں اس کی تاک میں رہا ۹؎ وہ پھر آیا اور غلے کے لپ بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا اب کے تو تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے میں اب نہ آؤں گا،مجھے رحم آگیا اسے رہا کردیا ۱۰؎ جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ہریرہ تمہارے قیدی کا کیا بنا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر کیا مجھے اس پر رحم آگیا اسے رہا کردیا۱۱؎ فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر آئے گا مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے سے وہ پھر آئے گا یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا میں گھات میں رہا وہ آیا غلے سے لپیں بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا تو کہا کہ اب تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا یہ آخری تیسری بار ہے کہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۱۲؎ وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہ اﷲ ان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا۱۳؎ جب آپ بستر میں جائیں۱۴؎ تو آیۃ الکرسی اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم آخری آیت تک پڑھ لیں تو اﷲ کی طرف سے حافظ رہے گا۱۵؎ اور صبح تک شیطان آپ کے قریب نہ بھٹکے گا ۱۶؎میں نے اسے چھوڑ دیا ۱۷؎جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بنا تمہارے قیدی کا میں نے عرض کیا اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اﷲ مجھے نفع دے گا،حضور نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا۱۸؎ کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کر رہے ہو میں نے کہا نہیں فرمایا یہ شیطان ہے ۱۹؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع