دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

2116 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فجالت الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ الْفرس ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يحيى قَرِيبا مِنْهَا فأشفق أَن تصيبه فَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفْعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ» . قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يحيى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبا فَرفعت رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ: «وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟» قَالَ لَا قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي مُسْلِمٍ: «عرجت فِي الجو» بدل: «خرجت على صِيغَة الْمُتَكَلّم»

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ حضرت اسید ابن حضیر ۱؎ فرماتے ہیں اس اثناء میں کہ وہ رات میں سورہ بقر پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا تھا کہ گھوڑا کودنے لگا ۲؎ وہ خاموش ہوگئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑ ھا تو گھوڑا پھر کودا وہ پھر چپ ہوگئے تو گھوڑا پھر ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر کودا آپ نے قرأت بند کردی ۳؎ ان کا بیٹا یحیی گھوڑے سے قریب تھا آپ ڈرے کہ گھوڑا اس تک پہنچ جائے جب انہوں نے یحیی کو ہٹایا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا دیکھا کہ شامیانہ کیطرح ہے جس میں چراغ جیسے ہیں ۴؎ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا ۵؎ فرمایا اے ابن حضیر پڑھا کرو اے ابن حضیر پڑھا کرو ۶؎ عرض کیا یارسول اﷲ میں ڈرا کہ یحیی کو گھوڑا روند دے یحیی اس سے قریب ہی تھے تو میں ان کے پاس چلا گیا ۷؎ اور میں نے آسمان کیطرف سر اٹھایا تو شامیانہ سا تھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں۸؎ میں باہر آگیا حالانکہ وہ نظر نہ آئیں فرمایا کیا جانتے ہو یہ کیا تھا عرض کیا نہیں فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز پر جھک پڑے تھے ۹؎ اگر تم پڑھتے رہتے فرشتے اس طرح سویرا کر دیتے لوگ انہیں دیکھتے فرشتے ان سے نہ چھپتے ہیں ۱۰؎ مسلم،بخاری،لفظ بخاری کے ہیں مسلم میں بجائے متکلم فخرجت کے یوں ہے کہ وہ شامیانہ اوپر چڑھ گیا۱۱؎

۱؎  آپ نقباء انصار میں سے ہیں جلیل القدر صحابی ہیں ۲۰ یا    ۲۱ ھ؁ میں وفات پائی حضرت عمر نے آپ کا جنازہ اٹھایااور نماز پڑھائی۔

۲؎ غالبًا یہ تہجد کا وقت تھا،آپ نماز تہجد سے فارغ ہو کر تلاوت قرآن کررہے تھے آخر شب میں نماز کے سواء تلاوت بھی ثواب ہے عمل صحابہ ہے۔

 ۳؎ بچے کی جان کے خوف سے اور اس واقعہ میں غور و تامل کرنے کے لیے کیونکہ تلاوت میں سکون قلبی نہ رہا تھا دل اور طرف متوجہ ہوگیا تھا سکون قلب حاصل کرنے کے لیے یہ تلاوت بند فرمائی،اگر نمازی کو عین نماز کی حالت میں سانپ بچھو نظر آئے تو انہیں مارا سکتا ہے تاکہ سکون دل میسر ہوا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ آپ نے دنیاوی وجہ سے دینی کام کیوں بند کردیایہ بندکرنا نہیں بلکہ اس کو کامل بنانے کی تدبیر ہے۔

 ۴؎ غالب یہ ہے کہ شامیانہ روزانہ ہی ان کی تلاوت پر لگ جاتا تھا مگر آج ان کی نگاہ سے حجاب اٹھا دیئے گئے ہیں اس لیے آپ کی نگاہوں نے اسے دیکھ بھی لیا،بلکہ آپ کی فیض صحبت سے آپ کے گھوڑے نے بھی اسے دیکھ لیا۔

 ۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ مرید اپنے شیخ کی خدمت میں قلبی واردات اور خفیہ اثرات اعمال کی مخفی تاثیریں عرض کرسکتا ہے اس میں ریاءنہیں،بلکہ کبھی اس سے اپنی خامی دور ہوتی ہے اور کبھی مدارج میں ترقی ہوتی ہے مریض اپنا ہر حال طبیب سے عرض کرتا ہے حصول صحت کے لیے غرضکہ ان امور کا اظہار عوام پر نہ کرے،خَواص پر خصوصًا اپنے شیخ پر کرے۔

۶؎ یعنی آئندہ بھی تلاوت قرآن کیا کرو ان جیسے واقعات دیکھ کر گھبرانا نہیں یہ ڈرنے کی چیز نہیں ہے یہ ہی شرح زیادہ ظاہر ہے بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ امر بمعنی ماضی ہے یعنی تم نے اور زیادہ تلاوت کی ہوتی بند کیوں کردی اور دوسری شرح کی بنا پر اگلا جواب بالکل ظاہری ہے جو حضرت اسید نے عرض کیا۔

 ۷؎ یعنی دل تو میرا بھی چاہتا تھا کہ تلاوت خوب کروں کسی سستی وغیرہ کی وجہ سے میں نے تلاوت بند نہ کی،بلکہ واقعہ یہ پیش آیا جس کی وجہ سے مجھے تلاوت بند کرنی پڑی۔

۸؎ اس عجوبہ کو پہلے گھوڑے نے دیکھا جس سے وہ بدکا،پھر میں نے اسے دیکھا اس کا بدکنا میرے دیکھنے کا باعث بنا۔

۹؎ حضرت اسید کا ان فرشتوں کو دیکھ لینا اس وجہ سے ہوا کہ آج رب تعالٰی نے ان کی آنکھ سے غیبی حجابات اٹھا دیئے تھے جیسے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے تیز بارش دیکھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کو دفن کرنے قبرستان تشریف لے گئے تھے واپسی پرآپ نے عرض کیا کہ حضور اس بارش میں آپ کہاں تھے بھیگے کیوں نہیں،فرمایا تمہارے سر پرکیا کپڑا ہے عرض کیا آپ کا تہبند فرمایا اس تہبند کی برکت سے تم نے یہ غیبی نورانی بارش دیکھ لی،ورنہ یہ بار ش کسی کو نظر نہیں آتی،مثنوی شریف میں ا س واقعہ کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے،جس کے آخری اشعار یہ ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن