30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تلاوت بھی مستقل عبادت ہے اور اس پر عمل مستقل نیکی محبوب کا پیغام،وطن کا خط پڑھنے،سننے میں بھی مزہ آتا ہے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ تلاوت قرآن محض بے کار ہے قر آن عمل کے لیے ہے نہ کہ پڑھنے کے لیے کیونکہ دوا کھانے پینے اور برتنے کے لیے ہوتی ہے محض نسخہ پڑھ لینے سے شفا نہیں ہوتی،ان بے وقوفوں کو خبر نہیں کہ بعض دواؤں کا سونگھنا مفید ہوتا ہے بعض کا محض دیکھنا فائدہ مند،سبزہ دیکھنے سے آنکھ کی روشنی بڑھتی ہے اور بعض دواؤں کے سننے سے فائدہ ہوتا ہے،بیمار عشق کے لیے محبوب کا ذکر سننا بہت مفید دوا ہے لیموں یا ترش چیزوں کا ذکر کرو تو منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔
|
2115 -[7] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن الله يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اس قرآن کے ذریعہ کچھ قوموں کو سر بلند کرے گا اور کچھ کو گرادے گا ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی جو مسلمان قرآن کر یم کو صحیح طرح سمجھیں صحیح طرح عمل کریں تو وہ دنیا و آخرت میں بلند درجے پائیں گے اور جو اس سے غافل رہیں،یا غلط طرح سمجھیں،غلط طور پر عمل کریں وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے،قرآن کریم سے زندگی و موت طیب ہوتی ہے یہ محبوبین کے لیے ماء( پانی) ہے،اور محجوبین کے لیے دماء (خون) ہے،اب بھی قرآن پاک کے صحیح متبع بڑی عظمت عزت کے مالک ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ لَایَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا"۔حضرت عمر نے ابن ابزی غلام کو مکہ معظمہ کا حاکم بنایا لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ یہ اگرچہ غلام ہے مگر قرآن کا ماہر ہے۔
|
2116 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فجالت الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ الْفرس ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يحيى قَرِيبا مِنْهَا فأشفق أَن تصيبه فَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفْعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ» . قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يحيى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبا فَرفعت رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ: «وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟» قَالَ لَا قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي مُسْلِمٍ: «عرجت فِي الجو» بدل: «خرجت على صِيغَة الْمُتَكَلّم» |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ حضرت اسید ابن حضیر ۱؎ فرماتے ہیں اس اثناء میں کہ وہ رات میں سورہ بقر پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا تھا کہ گھوڑا کودنے لگا ۲؎ وہ خاموش ہوگئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑ ھا تو گھوڑا پھر کودا وہ پھر چپ ہوگئے تو گھوڑا پھر ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر کودا آپ نے قرأت بند کردی ۳؎ ان کا بیٹا یحیی گھوڑے سے قریب تھا آپ ڈرے کہ گھوڑا اس تک پہنچ جائے جب انہوں نے یحیی کو ہٹایا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا دیکھا کہ شامیانہ کیطرح ہے جس میں چراغ جیسے ہیں ۴؎ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا ۵؎ فرمایا اے ابن حضیر پڑھا کرو اے ابن حضیر پڑھا کرو ۶؎ عرض کیا یارسول اﷲ میں ڈرا کہ یحیی کو گھوڑا روند دے یحیی اس سے قریب ہی تھے تو میں ان کے پاس چلا گیا ۷؎ اور میں نے آسمان کیطرف سر اٹھایا تو شامیانہ سا تھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں۸؎ میں باہر آگیا حالانکہ وہ نظر نہ آئیں فرمایا کیا جانتے ہو یہ کیا تھا عرض کیا نہیں فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز پر جھک پڑے تھے ۹؎ اگر تم پڑھتے رہتے فرشتے اس طرح سویرا کر دیتے لوگ انہیں دیکھتے فرشتے ان سے نہ چھپتے ہیں ۱۰؎ مسلم،بخاری،لفظ بخاری کے ہیں مسلم میں بجائے متکلم فخرجت کے یوں ہے کہ وہ شامیانہ اوپر چڑھ گیا۱۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع