30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ہے ورنہ آپ پر اعتکاف فرض نہ تھا اور قضاءصرف فرض یا واجب کی ہوتی ہے جیسے ایک دفعہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ظہر چار رکعت رہ گئی تھیں تو بعد عصران کی قضاء کی پھر ہمیشہ یہ رکعتیں پڑھتے رہے،وہ بھی خصوصیات میں سے تھا۔ مرقات نے فرمایا کہ موقف نفلوں کی قضا کرلینا بہتر ہے جیسے نفل تہجد۔
|
2104 -[8] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر پڑھتے پھر اپنے اعتکاف گاہ میں داخل ہوجاتے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ اس حدیث کی بنا پر امام اوزاعی و لیث نے فرمایا کہ اعتکاف بعدفجر شروع کیا جائے مگرباقی تمام آئمہ کے ہاں اعتکاف سنت و فرض بعد عصر شروع کیا جائے،وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت سے اعتکاف گاہ میں داخلہ تیاری اعتکاف کے لیے ہوتا تھا،اصل اعتکاف بعد عصر شروع فرماتے تھے اسی لیے آپ فرمارہی ہیں کہ اپنے اعتکاف گاہ میں داخل ہو جاتے یہ نہ فرمایا کہ اعتکاف شروع کردیتے تھے،اعتکاف شروع کرنا اور ہے اور اعتکاف گاہ میں داخلہ کچھ اور۔ اعتکاف گاہ سے مراد چٹائی کا وہ حجرہ ہے جو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے لیے بنایا جاتا تھا کہ چٹائی گول شکل میں کھڑی کردی جاتی تھی۔
|
2105 -[9] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ فَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحالت اعتکاف بیمار کی مزاج پرسی یوں فرماتے تھے کہ اسی طرح چلتے رہتے تھے مڑتے نہ تھے اس کا مزاج پوچھ لیتے تھے ۱؎(ابوداؤد، ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بحالت اعتکاف پیشاب یا پاخانہ کے لیے مسجد سے باہر جاتے اور اتفاقًا کوئی بیمار مل جاتا تو چلتے ہوئے ہی مزاج پرسی فرمالیتے نہ تو ٹھہرتے نہ اس کی خاطر راستہ سے مڑتے جمہور علماء کے ہاں معتکف کے لیے یہی حکم ہے اگر وہ مزاج پرسی کے لیے بقدر اداء نماز ٹھہرے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اس سے کم ٹھہرا تومکروہ ہوگا،جمہور علماء کا ماخذیہ حدیث ہے۔
|
2106 -[10] وَعَن عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا قَالَتْ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدُ جِنَازَةً وَلَا يَمَسُّ الْمَرْأَةَ وَلَا يُبَاشِرُهَا وَلَا يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لابد مِنْهُ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ نہ تو بیمار کی مزاج پرسی کرے ۱؎ اور نہ جنازے ہی کو جائے ۲؎ نہ عورت کو ہاتھ لگائے نہ اسے چھوئے ۳؎ نہ کسی کام کو جائے سوائے ضروری کام کے ۴؎ بغیر روزہ اعتکاف نہیں ہوتا ۵؎ اور صرف جامع مسجد میں ہی اعتکاف کرے ۶؎(ابوداؤد)۷؎ |
۱؎ نہ مزاج پرسی کے لیے مسجد سے نکلے اور نہ مسجد سے باہر اس کے لیے ٹھہرے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ وہاں چلتے ہوئے مزاج پرسی مراد تھی اور یہاں ٹھہر کر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع