30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے یہ اعلان کرایا کہ جس نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن کچھ نہ کھائے اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھ لے کیونکہ آج عاشورہ ہے،یہ حدیث اس زمانہ کی ہے جب عاشورہ کا روزہ فرض تھا۔
|
2070 -[35] وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَامُ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَانِ قبل الْفجْر» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت حفصہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار کام نہ چھوڑتے تھے عاشورہ کا روزہ،بقر عید کے دس دن اور ہر مہینہ تین دن کے روزے ۱؎ اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں۔(نسائی) |
۱؎ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شریف تک یہ تینوں قسم کے روزے رکھے لہذا یہ سب سنت ہیں،بقر عید کے دس دن سے مراد نو دن ہیں ورنہ دسویں بقرعید کو روزہ حرام ہے یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل مراد ہے نہ کہ ہمیشہ کا لہذا یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کی اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں آپ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کو بقرعید کے عشرہ میں روزہ رکھتے نہ دیکھا،بقر عید کا عشرہ بہت ہی بہترین زمانہ ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں بہترین ہیں کہ ان سب میں شب قدر ہے اور بقرعید کے پہلے عشرہ کے دن افضل ہیں کہ ان میں عرفہ کا دن ہے۔
|
2071 -[36] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبيض فِي حضر وَلَا فِي سفر. رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی کے روشن دنوں میں روزے نہ چھوڑتے تھے نہ گھر میں نہ سفر میں ۱؎(نسائی) |
۱؎ یہاں مرقات نے فرمایا ایام بیض کے متعلق علماء کے نو قول ہیں جن میں سے زیادہ قوی قول یہ ہے کہ وہ چاند کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں راتیں ہیں،انہیں ایام بیض یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں اجیالی ہیں اور یا اس لیے کہ ان کے روزے دنوں کو نورانی اور اجیالا کرتے ہیں اور یا اس لیے کہ آدم علیہ السلام کے اعضاء جنت سے آکر سیاہ پڑگئے تھے،رب تعالٰی نے انہیں ان تین روزوں کا حکم دیا ہر روزے سے آپ کا تہائی جسم چمکیلا ہواحتی کہ تین روزوں کے بعد سارا جسم نہایت حسین ہوگیا۔
|
2072 -[37] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ کہ روزے کی برکت سے اکثر آدمی دبلے ہوجاتے ہیں،جسم کا کچھ گوشت گل جاتا ہے یا روزہ کی برکت سے جسم گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے یا روزہ کی برکت سے آگ روزہ دار تک نہ پہنچ سکے گی۔غرضکہ روزہ زکوۃ کے سے تینوں کام کرتا ہے۔
|
2073 -[38] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. فَقَالَ: " إِنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ يَغْفِرُ اللَّهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ إِلَّا ذَا هَاجِرَيْنِ يَقُولُ:دَعْهُمَا حَتَّى يصطلحا".رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزے رکھتے تھے عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں تو فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ تعالٰی سوائے عداوت والوں کے باقی سب مسلمانوں کو بخش دیتا ہے ۱؎ ان کے متعلق فرمایا ہے انہیں چھوڑ دو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں ۲؎(احمد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع