30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں روزہ رکھا جو کہ عبادت ہے۔چوتھے یہ کہ اﷲ والوں کی خوشی میں شرکت کرنا کچھ ملنے کابہانہ ہوجاتاہے،بادشاہوں کے نوکر چاکر شہزادوں کی سالگرہ میں دکھلاوے کی خوشی مناکر بھی کچھ پا لیتے ہیں تو اگر ہم عید میلاد،عید معراج دل سے منائیں تو ان شاء اﷲ منہ مانگی مرادیں پائیں گے بلکہ پا رہے ہیں ان تمام عیدوں کی اصل یہ حدیث ہے۔
|
2068 -[33] وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ: «إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ فَأَنَا أُحِبُّ أَن أخالفهم» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جن دنوں میں روزے زیادہ رکھتے تھے ان میں اکثر ہفتہ و اتوار کو رکھتے تھے ۱؎ اور فرماتے تھے کہ یہ دونوں دن مشرکین کی عید کے دن ہیں میں چاہتاہوں کہ ان کی مخالفت کروں۲؎(احمد) |
۱؎ خیال رہے کہ ہفتہ یا اتوار یا دونوں دنوں کے روزے رکھنا یہودیوں عیسائیوں کی مخالفت کرنے کے لیے بہت ہی بہتر ہے اور ان دنوں کی تعظیم کے لیے روزہ رکھنا سخت منع لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہفتہ کے روزے سے منع فرمایا گیا تھا کیونکہ وہاں دوسری نوعیت کا روزہ مراد تھا اور یہاں پہلی قسم کا روزہ مقصود ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہاں صرف ہفتہ کا روزہ مراد ہو اور یہاں ہفتہ اتوار دونوں دن کا روزہ ہے۔
۲؎ یعنی ہفتہ کا دن یہود کی عید ہے اور اتوار کا دن عیسائیوں کی عید ان میں وہ خوب کھاتے پیتے ہیں اور عیش کرتے ہیں ہم نے ان کی مخالفت میں روزہ رکھا۔مشرکین سے مراد یہودی،عیسائی ہیں کیونکہ یہود عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مان کر ان کی پوجا کرتے ہیں اور عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی لہذا یہ دونوں مشرک ہوئے۔ قرآن شریف میں عمومًا شرک بمعنی کفر اور مشرک بمعنی کافر استعمال ہوا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ"اور فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"۔ان آیتوں میں شرک بمعنی کفر ہے، ہوسکتا ہے کہ یہاں بھی مشرکین سے کفار مراد ہوں۔
|
2069 -[34] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ وَلم يتعاهدنا عِنْده. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے اور ہم کو اس پر رغبت دیتے اور عاشورہ کے دن ہماری تحقیقات فرماتے تھے پھر جب رمضان فرض ہوا تو نہ ہمیں اس کا حکم دیا نہ منع کیا نہ تحقیقات فرمائی ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہ دونوں واقعے ہجرت کے بعد ہیں،ہجرت سے پہلے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی روزہ کا حکم نہیں دیا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شروع اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا کیونکہ اس کا حکم دینا اور عاشورہ آنے پرتحقیقات فرمانا کہ کس نے روزہ رکھا اور کس نے نہیں فرضیت کی علامت ہے۔رمضان کی فرضیت کے بعد عاشوراء کی فرضیت اٹھ گئی مگر سنیت باقی رہی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شریف تک یہ روزہ رکھاہے۔مسلم،بخاری میں حضرت سلمہ ابن اکوع سے روایت ہے کہ حضور انور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع