30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس طرح کہ اعمال لکھنے والے فرشتے بندوں کے ہفتہ بھر کے اعمال ان دو دنوں میں رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اعمال کا اٹھانا یعنی آسمانوں پر پہنچانا اور ہے اور رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیشی کچھ اور،اعمال کا اٹھانا تو روزانہ چوبیس گھنٹے میں دوبار ہوتا ہے کہ دن کے اعمال رات سے پہلے،اور رات کے اعمال دن سے پہلے وہاں پہنچائے جاتے ہیں مگر پیشی ہفتہ میں دو بار لہذایہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزانہ دوبار اعمال اٹھانے کا ذکر ہے۔(مرقات)یا اس کے معنی یہ ہیں کہ اعمال لکھنے والے فرشتے اعمال نامے ان فرشتوں پر پیش کرتے ہیں جواعمال ناموں کی نقل اپنے رجسٹروں میں کرتے ہیں۔(اشعہ)تب تو یہ حدیث بالکل صاف ہے۔
۲؎ تاکہ روزے کی برکت سے رحمت الٰہی کا دریا جوش مارے۔خیال رہے کہ سال بھر کے اعمال کی تفصیلی پیشی شعبان میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اﷲ کے ہاں سال کا آخری مہینہ ہے اور رمضان سال کا شروع مہینہ جیسے دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے۔غرضکہ فرشی سال اور ہے جس کی ابتداءمحرم سے انتہاء بقرعید پر،عرشی سال کچھ اور۔(ازمرقات)
|
2057 -[22] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے ابو ذر جب تم ہر مہینہ تین روزے رکھو تو تیرھویں،چودھویں پندرھویں کے رکھو ۱؎(ترمذی،نسائی) |
۱؎ انہی دنوں کو عربی میں ایام بیض یعنی چمک دار دن کہا جاتا ہے جن کی راتیں روشن ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تاریخوں میں اکثر روزے رکھتے تھے جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
|
2058 -[23] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَلَّمَا كَانَ يفْطر يَوْم الْجُمُعَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ إِلَى ثَلَاثَة أَيَّام |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں پہلی تین تاریخوں میں روزے رکھتے تھے ۱؎ اور جمعہ کے دن بہت کم افطار کرتے تھے۲؎ (ترمذی،نسائی)اور ابوداؤد نے تین ایام تک روایت کی۔ |
۱؎ پہلی دوسری تیسری تاریخوں میں یا ان کے قریب۔حضرت ابن مسعود کی یہ روایت اپنے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ سرکار کا یہ عمل کبھی کبھی تھا اکثر ۱۳،۱۴،۱۵ کو روزہ رکھا کرتے تھے لہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے خلاف ہے کہ سرکار مہینہ کے روزوں میں خاص تاریخوں کے پابند نہ تھے اور نہ اس کے مخالف کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض یعنی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں کے روزے رکھتے تھے۔
۲؎ یعنی اکثر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے،چونکہ جمعہ کی نیکی کا ثواب ستر گنا ہے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ صرف جمعہ کا روزہ رکھتے تھےاور یہ آپ کی خصوصیات میں سے نہیں،ہر شخص کو اس دن کے روزے کی اجازت ہے لہذا یہ حدیث مذہب حنفی و فقہاء کے فتوی کی مؤید ہے کہ جمعہ کا روزہ ممنوع نہیں،جہاں ممناعت آئی ہے وہاں کسی عارضہ سے ہے یا بمعنی خلاف اولیٰ ہے۔(مرقات واشعہ)
|
2059 -[24] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالِاثْنَيْنِ وَمِنَ الشَّهْرِ الآخر الثُّلَاثَاء وَالْأَرْبِعَاء وَالْخَمِيس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ میں ہفتہ اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے تھے اور دوسرے مہینہ میں منگل،بدھ اور جمعرات کا ۱؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع