30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افضل ہے اور عیسائیوں کے ہاں اتوار بہتر،وہ لو گ ان دنوں میں روزے رکھتے ہیں اگر مسلمان اپنے افضل دن یعنی صرف جمعہ کا روزہ رکھیں تو ان سے مشابہت ہوجائے گی۔واﷲ اعلم!
|
2052 -[17] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلَا تَخْتَصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومهُ أحدكُم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ کی رات کو دیگر راتوں میں شب بیداری سے خاص نہ کرو ۱؎ اور جمعہ کے دن کو دیگر دنوں میں روزے سے خاص نہ کرو ۲؎ مگر یہ کہ جمعہ اس تاریخ میں آجائے جس میں کوئی روزہ رکھتاہو۳؎(مسلم) |
۱؎ اس طرح کہ صرف اسی رات میں عبادت کو لازم کرلو یا سمجھ لو دوسری راتوں میں بالکل ہی غافل رہوبلکہ اور راتوں میں بھی عبادت کیا کرو،اس توجیہ پر حدیث بالکل صاف ہے یعنی جمعہ کی رات میں عبادت کرنا منع نہیں بلکہ اور راتوں میں بالکل عبادت نہ کرنا مناسب نہیں کہ یہ غفلت کی دلیل ہے،چونکہ جمعہ کی رات ہی زیادہ عظمت والی ہے،اندیشہ تھا کہ لوگ اس کو نفلی عبادتوں سے خاص کرلیں گے اس لیے اسی رات کا نام لیا گیا۔
۲؎ کیونکہ جمعہ ہفتہ بھر کی عید ہے صرف عید میں روزہ رکھنا کیسا۔لمعات میں امام مالک علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ کوئی فقیہ صرف جمعہ کے روزے کو منع نہیں کرتا بلکہ بعض فقہاء اراداۃً جمعہ ہی کا روزہ رکھتے ہیں۔ (اشعہ)خلاصہ یہ کہ تمام فقہاء کے ہاں یہ حدیث خلافِ اولٰی کے لیے ہے کیوں کہ آگے صراحۃً حدیث میں آرہا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کو بہت کم افطار کرتے،روزہ ہی رکھتے تھے۔
۳؎ مثلا کوئی شخص ہر گیارہویں یا بارہویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا عادی ہو اور اتفاق سے اس دن جمعہ آجائے تو رکھ لے اب خلاف اولی بھی نہیں،بعض لوگ مخصوص تاریخوں میں خاص عبادتیں کرنے کو منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے عبادت یا دن مقرر کرنا حرام ہے اور ان دو حدیثوں کی آڑ پکڑتے ہی،الحمدللہ اس جملے نے ان کے خیال کو باطل کردیا،صاف بتادیا کہ جمعہ کا روزہ مقرر کرنے کی وجہ سے حرام نہیں ہوا بلکہ اسکی وجوہ کچھ اور ہیں جو پہلے عرض کی گئیں ورنہ یہ تاریخوں کا مقرر کرنا کیوں درست ہوتا۔اس کی پوری بحث اس جگہ مرقات میں ملاحظہ فرمایئے۔
|
2053 -[18] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا» |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اﷲ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے تو اﷲ اسے آگ سے ستر سال کی راہ دور رکھے گا ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ عربی میں خریف موسم خزاں کو کہتے ہیں،چونکہ اہلِ عرب اپنے کاروبار میں اس موسم سے سال شروع کرتے ہیں اس لیے اس سے پورا سال بھی مراد لے لیتے ہیں وہی یہاں مراد ہے اور حدیث بالکل اپنے ظاہر پر ہے۔روزے سے نفلی روزہ مراد ہے اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث نفلی روزے کے باب میں لائے یعنی بندہ مسلم اگر ایک نفلی روزہ رکھے اور اﷲ قبول کرے تو دوزخ میں جانا تو کیا وہ دوزخ سے قریب بھی نہ ہوگا اور وہاں کی ہوا بھی نہ پائے گا۔
|
2054 -[19] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا. لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ. صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ. صُمْ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ» . قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: " صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ: صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ. وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ " |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عبداﷲ کیا مجھے یہ خبر نہ ملی کہ تم ہمیشہ دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ۱؎ میں نے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ایسا نہ کرو روزہ بھی رکھو،افطاربھی کرو، قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ۲؎ کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے اور تم پر تمہاری آنکھو ں کا بھی حق ہے۳؎ اور تم پرتمہاری بیوی کا بھی حق ہے اورتم پر تمہارے ملاقاتی کا بھی حق ہے ۴؎ جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزے رکھے ہی نہیں ۵؎ ہر مہینہ تین روزے ساری عمر کے روزے ہیں ہر مہینہ میں تین روزے رکھو ۶؎ اور ہر مہینہ ایک قرآن ختم کرو ۷؎ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۸؎ فرمایا تو تم بہترین روزے یعنی روزہ داؤد رکھو کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرو اس سے زیادہ نہ کرو ۹؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع