30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ:جو شخص ان دنوں میں روزے کی نذر مان لے تو دوسرے اماموں کے ہاں وہ نذر ہی درست نہیں اور امام اعظم کے ہاں نذرصحیح ہے مگر اس کی قضاء واجب۔
|
2049 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَوْم فِي يَوْمَيْنِ: الْفطر وَالضُّحَى " |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو دن روزہ جائز نہیں عید و بقرعید ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ دو دن سے مراد دو قسم کے دن ہیں اور بقر عید سے مراد دسویں ذی الحجہ سے مع تین دن بعد والے جیساکہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔غرضکہ یہ حدیث مجمل ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
|
2050 -[15] وَعَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أكل وَشرب وَذكر الله» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت نبیشہ ہذلی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریق کا زمانہ کھانے اور پینے اور اﷲ کے ذکر کا زمانہ ہے ۱؎(مسلم)۲؎ |
۱؎ بقرعید کے تین دن بعد تک یعنی ۱۳ تاریخ تک اہلِ عرب قربانی کے گوشت سکھاتے تھے اس لیے ان دنوں کو تشریق یعنی سکھانے اور دھوپ دکھانے کا زمانہ کہا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ چار دن بندوں کی مہمانی کے ہیں جن میں رب تعالٰی میزبان بندے مہمان اس لیے ان دنوں میں روزہ رکھنا گویا رب تعالٰی کی دعوت سے انکار،اس زمانہ میں خوب کھاؤ خوب پیئو اور خوب اﷲ کا ذکر کرو،یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفصیل ہے جس نے بتایا کہ وہاں بقر عید سے مراد یہ چاروں دن تھے۔
۲؎ احمد،طبرانی،دار قطنی،ابن ابی شیبہ وغیرہم نے مختلف الفاظ سے روایتیں کیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منٰی کے زمانہ میں اعلان کراتے تھے،صحابہ منٰی کے بازار میں شورکرتے پھرتے تھے کہ خبردار ایام تشریق میں روزے نہ رکھنا یہ دن کھانے پینے اور اﷲ کے ذکر کے ہیں۔
|
2051 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَن بِصَوْم قبله أَو بِصَوْم بعده» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے ۱؎ مگر یہ کہ اس کے آگے پیچھے بھی روزہ رکھے ۲؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی نفلی روزہ صرف جمعہ کا نہ رکھے یا جمعرات جمعہ یا جمعہ ہفتہ دو دن روزے رکھے،اس کی تحقیق آگے آرہی ہے۔
۲؎ فتح القدیر میں ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے ہاں صرف جمعہ کا روزہ جائز ہے یہ ممانعت تنزیہی ہے وہ بھی بعض صورتوں میں جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔نفلی روزہ صرف جمعہ کا نہ رکھنا بہتر اس کی وجہ اﷲ رسول ہی جانتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ چونکہ یہ دن غسل کرنے،کپڑے بدلنے،خطبہ سننے،نماز جمعہ پڑھنے وغیرہ عبادات کا ہے ممکن ہے روزے کی وجہ سے بندہ یہ کام بخوبی انجام نہ دے سکے جیسے حاجی کے لیے عرفے کے دن روزہ رکھنا بہتر نہیں کہ وہ اس دن روزہ رکھ کر آج کے کام اچھی طرح نہ کرسکے گا۔شارحین نے اوربہت سی وجہیں بیان کی ہیں لیکن یہ وجہ زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ یہود کے ہاں ہفتہ کا دن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع