دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

2046 -[11]

وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَقُلْتُ لَهَا: مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ:لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّام الشَّهْر يَصُوم. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت معاذ عدویہ سے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتے تھے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کہ مہینہ کے کون سے حصہ میں روزے رکھتے تھے فرمایا اس کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ کس حصہ میں روزہ رکھیں ۱؎(مسلم)

۱؎ چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حال نگاہ میں رکھتی تھیں اس لیے سرکار کے حالات زیادہ تر ام المؤمنین ہی سے پوچھے جاتے تھے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ میں مختلف روزے رکھتے تھےکبھی زیادہ کبھی کم مگر تین دن سے کم کبھی نہ رکھتے تھے،اکثر تیرہویں،چودھویں، پندرھویں کے روزے رکھتے تھے،کبھی ان کے علاوہ اور تاریخوں میں بھی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان تین تاریخوں میں روزے رکھتے تھے کیونکہ وہاں اکثری حالت کا ذکر ہے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ان تین روزوں کی تاریخ میں دس۱۰ قول ہیں۔

2047 -[12]

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّال كَانَ كصيام الدَّهْر» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے انہوں نے خبر دی ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے ۲؎ تو ساری عمر کے روزوں کی طرح ہوگا ۳؎(مسلم)۴؎

۱؎ اپنے سے نیچے راوی کو یعنی اپنے شاگرد ابن عمرو ابن ثابت کو،انہوں نے یہ حدیث بیان کی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۲؎  مسلسل یا متفرق مگر متفرق افضل،اس طرح کہ عید کے سویرے ایک روزہ رکھ لے،باقی پانچ روزے پورے مہینے میں کچھ فاصلہ کرتے ہوئے رکھ لے۔

۳؎ کیونکہ سال میں دن تقریبًا تین سو ساٹھ ہوتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا تو رمضان کے تیس روزے تین سو بن گئے اور یہ چھ روزے ساٹھ ہوگئے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ ہر مہینہ میں تین روزے عمر بھر کے روزے ہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان روزوں کا بھی یہی ثواب ہوا اور ان کا بھی یہی،ثواب ایک لیکن اس کے حاصل کرنے کے ذریعے بہت۔

۴؎  مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث قریبًا تیس صحابہ سے مروی ہے،ترمذی نے اسے حسن فرمایا،باقی انتیس اسنادیں اس کی نہایت صحیح ہیں۔چنانچہ اسے طبرانی،بزاز،ابن ماجہ،نسائی،ابن خزیمہ،ابن حبان،احمد،بیہقی وغیرہ کتب نے ابوہریرہ،جابر،ثوبان،براء ابن عازب،ابن عباس،سعد ابن سعید،ابو ایوب انصاری اور حضرت عائشہ صدیقہ سے روایتیں کیں،اس حدیث کو ضعیف کہنا سخت غلطی ہے۔

2048 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید و قربانی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ نحر کے دن سے تشریق کے سارے دن مراد ہیں،چونکہ ان میں سے اکثر میں قربانی ہوتی ہے اس لیے تغلیبًا ان سب کو نحر کا دن فرمادیا،دسویں ذی الحجہ صرف قربانی کا دن ہے،گیارھویں بارھویں قربانی کا دن بھی ہے اور تشریق کا بھی اور تیرھویں صرف تشریق کا دن ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ سال میں پانچ دن روزہ رکھنا حرام ہے:یکم شوال اور دسویں،گیارھویں،بارھویں،تیرھویں ذی الحجہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن