30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دس ملتا ہے تو ان شاءاﷲ! تین روزوں میں تیس کا ثواب ملے گا اس حساب سے ساری عمر کے روزے ہوجائیں گے یہ سب رحمتیں اس رحمت والے محبوب کے صدقے سے ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم
۸؎ پہلے عرض کیا جاچکا کہ یہ صِیام مصدرہے نہ کہ صوم یا صائم کی جمع یعنی ذی الحجہ کی نو تاریخ کا روزہ اگلے پچھلے دو سال کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اگر گناہ صغیرہ نہ ہوں تو درجے بلندکردیتاہے،گناہ کبیرہ بغیر توبہ اور بندوں کے حق بغیر ادا کئے معا ف نہیں ہوتے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ آئندہ ایک سال کے گناہ مٹانے کے معنے یہ ہیں کہ اسے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث غیر حاجیوں کے لیے ہے حاجی کے لیے عرفات میں اس دن روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
۹؎ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورے کے روزے سے نویں بقرعید کا روزہ افضل ہےکیونکہ عاشورہ کا روزہ تو ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عرفہ کا روزہ دو سال کا مگر عاشورہ کا دن عرفے کے دن سے بعض اعتبار سے افضل ہے۔لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلا ف نہیں جس میں عاشورے کے دن کی افضلیت بیان کی گئی۔
|
2045 -[10] وَعَن أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ: «فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا ۱؎ اس دن میں ہم پیدا ہوئے اور اسی دن ہم پر قرآن اتارا گیا۲؎(مسلم) |
۱؎ یا تو پوچھا گیا کہ اس دن میں روزہ رکھنا کیسا ہے اور اس کا کیا ثواب ہے یا یہ کہ یارسول اﷲ آپ ہر پیر کو روزہ کیوں رکھتے ہیں اس میں کیا خصوصیت ہے۔(مرقات و لمعات)
۲؎ یعنی پیر کے دن دنیا کو دو نعمتیں ملیں:ایک میری تشریف آوری اور دوسرے نزول قرآن کی ابتداء کہ غار حرا میں پہلی وحی "اِقْرَاۡ بِاسْمِ"الایہ پیر کے دن ہی آئی لہذا اس دن روزہ رکھنا بہت ہی بہتر ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ وقت اور جگہ اشرف واقعات کی وجہ سے اشرف ہوجاتے ہیں۔ (مرقات)دوسرے یہ کہ حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کریمہ اﷲ تعالٰی کی بڑی ہی نعمت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نعمتوں میں شمار کیا،رب تعالٰی نے صرف اس نعمت پر مَنَّ فرما کر احسان جتایا کہ فرمایا:"لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ"الایہ۔تیسرے یہ کہ اہم واقعات کی یادگاریں مناناسنت سے ثابت ہے۔چوتھے یہ کہ یادگار میں کھیل کود نہ ہونا چاہئیے بلکہ عبادتیں ہوں اس لیے میلاد شریف،عید معراج،عرس وغیرہ کا ثبوت ہوتاہے۔پانچویں یہ کہ امام مالک کے ہاں پیر کا دن جمعہ سے بھی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔
|
2046 -[11] وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَقُلْتُ لَهَا: مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ:لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّام الشَّهْر يَصُوم. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت معاذ عدویہ سے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتے تھے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کہ مہینہ کے کون سے حصہ میں روزے رکھتے تھے فرمایا اس کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ کس حصہ میں روزہ رکھیں ۱؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع