30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرقات نے یہاں فرمایا کہ چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی پر رب تعالٰی بھی ناراض ہوجاتا ہے اس لیے جناب عمر نے اﷲ کے غضب کا بھی ذکر کیا۔خیال رہے کہ اﷲ رسول کے غضب سے سوائے رب کی بارگاہ کے کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔
۳؎ معلوم ہوا کہ عاجزی اور خوشامد بڑی اکسیرہے۔شعر
عجز کار انبیاء و اولیاء ست عاجزی محبوب درگاہ خداست
۴؎ ایسا شخص ہمیشہ دن میں کھانے سے محروم رہا اور روزوں کا ثواب بھی نہ پاسکاکیونکہ سال میں پانچ دن روزے منع تھے وہ ان دنوں میں بھی روزے رکھ گیا گنہگار ہوا یا یہ حکم اس کے متعلق ہے جو ہمیشہ کے روزوں پر قادر نہ ہو بہت مشقت اٹھاکر اورنفس کو ہلاکت میں ڈال کر روزے رکھے اور ان روزوں کی وجہ سے حق والوں کے حقوق ادا نہ کرسکے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضرت ابو طلحہ انصاری اور حمزہ ابن عمرو اسلمی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں ان پانچ دنوں کے سواء ہمیشہ روزے رکھتے تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مطلع ہونے پر منع نہ کیا،نیز بیہقی شریف میں ہے کہ جو ہمیشہ روزے رکھے اس پر دوزخ ایسی تنگ ہوجائے گی جیسے نوے کاعدد کہ کلمہ کی انگلی کا کنارہ انگوٹھے کی جڑ میں لگادیا جائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ تنبیہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ہمیشہ روزے رکھنے کی وجہ سے ایسے عادی ہوجائیں کہ انہیں روزے میں تکلیف ہو۔(لمعات و مرقات)لہذا امام اعظم ابوحنیفہ کا چالیس سال مسلسل روزے رکھنا اس عتاب کی زد میں نہیں آتا۔
۵؎ یعنی عام لوگوں پربھی دشوار ہے اس سے بھی لوگوں کے سارے کاروبار بند ہوجائیں گے۔اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت کی وجہ لوگوں کی کمزوری ہے اگر کسی میں ہمیشہ روزے رکھنے کی طاقت ہو جس سے اس کا کوئی کام بند نہ ہو تو اس کے لیے وہی افضل ہے۔
۶؎ یعنی آپ ہمیشہ یوں ہی روزے رکھتے تھے یہ بہتر طریقہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ عوام پر یہ بھی مشکل ہے یہ تو داؤد علیہ اسلام ہی تھے جو اس طرح روزے رکھ گئے دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے اور دوسری حدیثیں پہلے معنے کی تائیدکرتی ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین روزے داؤد علیہ السلام کے پاس ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ عمل اتنا کرو جوتمہیں علم سے نہ روکے اور علم میں اتنے مشغول ہونا جو تمہیں اعمال سے نہ روکے،درمیانی چال اچھی۔
۷؎ یعنی مجھ پر امت کا بوجھ،ازواج کے حقوق،مملکت کے انتظامات نہ ہوتے تو میں اسی طرح روزے رکھا کرتا،اگر میں ایسے روزے رکھنے لگوں تو کمزور مسلمان بھی اس سنت پر عمل کرنے لگیں جس سے ان کے کاروبار بند ہوجائیں گے۔یہاں طاقت رکھنے سے مرادموقعہ پاناہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم روزہ وصال رکھاکرتے تھے کہ وہ ہمیشہ نہ رکھتے تھے کبھی کبھی،پھربھی صحابہ کو اس سے منع فرمادیا لہذا اس عبادت سے کوئی دھوکہ نہ کھائے اور یہ نہ سمجھے کہ نعوذباﷲ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کمزور تھے اور آپ میں ان روزوں کی بھی طاقت نہ تھی۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامان حضرت بایزید بسطامی نے ایک بار تین سال تک پانی نہ پیا،اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب قدس سرہ نے ایک بار انتیس دن کچھ نہ کھایا اورکسی کام میں فرق نہ آیا۔یہ واقعہ مجھے میرے مرشد برحق صدرالافاضل مولانا نعیم الدین صاحب نے فرمایا۔ہر مہینہ کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں تاریخ کے روزے رکھ لیے جائیں اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھے جائیں تو اس سے ساری عمر کے روزوں کا ثواب مل جاتا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"۔جب ایک کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع