30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِنۡ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ"یہ شخص عہد مرتضوی میں منافقت پر ہی فوت ہوا۔خیال رہے کہ ابن جمیل نے صراحۃً زکوۃ کا انکار نہ کیا تھا ورنہ مرتد اور واجب القتل ہوجاتا بلکہ حیلے بہانے بنائے جس سے اس کی کبیدگی خاطرمحسوس ہوئی۔
۲؎ ابن جمیل نے تو بلا وجہ اور ان دو بزرگوں نے کسی معذوری سے۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم یا استاد سے رعایا شاگردوں کی پس پشت شکایات کرنا جائز ہے یہ غیبت نہیں بلکہ اصلاح ہے۔
۳؎ یعنی ابن جمیل کا زکوۃ نہ دینا محض کفرانِ نعمت کی بنا پر ہے کسی مجبوری سے نہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے دلوں کا حال جانتے ہیں۔دیکھو یہاں بظاہر تینوں صاحبوں سے ایک فعل واقع ہوا مگر ملامت صرف ایک پر کی گئی جس کے دل میں کھوٹ تھا۔دوسرے یہ کہ یہ کہہ سکتے ہیں اﷲ رسول غنی کرتے ہیں اﷲ رسول دونوں جہان کی نعمتیں بخشتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"اور فرماتاہے:"اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ"۔اسے شرک کہنے والے ان آیات واحادیث پر غورکریں۔
۴؎ یعنی خالد اتنے سخی ہیں کہ انہوں نے نفلی طور پر اپنا سامان جنگ تک وقف کردیا ہے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ زکوۃ فرضی ادا نہ کریں ان پر زکو ۃ فرض ہوگی ہی نہیں تم نے غلطی سے ان سے مطالبہ کیا یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ حتی کہ سامان جنگ بھی وقف کردیا اور مال وقف میں زکوۃ نہیں ہوتی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ کچھ وقف کردینے سے نصاب کی زکوۃ کیسے معاف ہوگئی۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ منقول چیزوں کا وقف مطلقًا جائز ہے یہی امام اعظم کا قول ہے،شیخین کے نزدیک منقول چیز غیرمنقول کے تابع ہوکر وقف ہوسکتی ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ واقف کا موقوف کو اپنے قبضہ میں رکھنا درست ہے جیسے بعض واقفین اپنی زندگی بھر تولیت اپنے لیے مقررکرلیتے ہیں۔
۵؎ اس جملے کی تفسیر میں بہت قول ہیں:بعض نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دو سال کی زکوۃ پیشگی وصول فرماچکے تھے،بعض نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان سے وصول کرلیں گے ہم اس کے ضامن ہیں مگر یہ تفسیر اگلے جملہ کے موافق نہیں۔ظاہر یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زکوۃ اپنے ذمہ لے لی اور فرمایا ان سے مت مانگنا ان کی زکوۃ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اتنا ہی صدقہ نفلی ان کی طرف سے ہم ادا کریں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ مالی عبادتوں میں نیابت جائز ہے یعنی ایک دوسرے کی طرف سے ادا کرسکتے ہیں۔حضرت عباس حضور علیہ السلام کے احسانات کے پہلے ہی عادی تھی انہیں خبرتھی کہ حضور انور میری زکوۃ ادا کردیں گے۔
۶؎ لہذا حضرت عباس جو میرے چچا ہیں وہ میرے والد حضرت عبداﷲ کی مثل ہیں اس لیے مجھ پر ان کی خدمت لازم ہے،ان کی زکوۃ اداکرنا یہ بھی ان کی خدمت ہے اور اے عمر تم ان پر نہ تقاضاکرنا نہ ملامت بلکہ میرے اس رشتہ کی وجہ سے ان کا ہمیشہ ادب کرنا۔(ازمرقاۃ ولمعات)خیال رہے کہ صِنُوْ ایک جڑ کے دو درختوں کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"صِنْوَانٌ وَّغَیۡرُ صِنْوَانٍ"چونکہ چچا اور والد دادا کی اولاد ہوتے ہیں اس لیے اس افصح الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صِنُوْ فرمایا۔
|
1779 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن أبي حميد السَّاعِدِيّ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الأزد يُقَال لَهُ ابْن اللتبية الأتبية عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْكُمْ عَلَى أُمُور مِمَّا ولاني الله فَيَأْتِي أحدكُم فَيَقُول: هَذَا لكم وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقْرًا لَهُ خُوَارٌ أَوْ شَاة تَيْعر " ثمَّ رفع يَدَيْهِ حَتَّى رَأينَا عفرتي إِبِطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَل بلغت» . . قَالَ الْخَطَّابِيُّ: وَفِي قَوْلِهِ: «هَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أُمِّهِ أَوْ أَبِيهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ كُلَّ أَمْرٍ يُتَذَرَّعُ بِهِ إِلَى مَحْظُورٍ فَهُوَ مَحْظُورٌ وَكُلُّ دخل فِي الْعُقُودِ يُنْظَرُ هَلْ يَكُونُ حُكْمُهُ عِنْدَ الِانْفِرَادِ كَحُكْمِهِ عِنْدَ الِاقْتِرَانِ أَمْ لَا؟ هَكَذَا فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جنہیں ابن لتبیہ کہاجاتا تھا صدقہ پر عامل بنایا ۱؎ جب وہ واپس ہوئے تو بولے یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیۃً دیا گیا۲؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اﷲ کی حمدوثناء کی پھر فرمایا حمدوثناء کے بعد سنو کہ ہم تم میں سے بعض کو ان چیزوں پر عامل بناتے ہیں جن کا اللہ نے ہمیں والی بنایا۳؎ تو ان میں سے بعض آکر کہتے ہیں کہ یہ تمہاراہے اور یہ مجھے ہدیہ نذرانہ دیا گیا تو وہ اپنے ابا اماں کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا پھر دیکھتا کہ اسے نذرانہ ملتا ہے یا نہیں۴؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی شخص اس میں سے کچھ نہ لے گا مگر قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کے لائے گا ۵؎ اگر اونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوگا یا گائے ہے تو وہ چیختی ہوگی یا بکری کہ ممیاتی ہوگی ۶؎ پھرحضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے حتی کہ ہم نے حضور کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر عرض کیا الٰہی کیا میں نے تبلیغ کردی اے مولیٰ کیا میں نے تبلیغ کردی۷؎ (مسلم،بخاری)خطابی نے فرمایا کہ حضور انور کے اس فرمان میں کہ وہ اپنی ماں کے گھر یا باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ رہا کہ دیکھتا کیا اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں اس کی دلیل ہے کہ جسے ممنوع کام کا ذریعہ بنایا جائے وہ بھی ممنوع ہے۸؎ اور جو چیز عقدوں میں داخل ہو اس میں غور کیا جائے کہ آیا اس کا علیحدہ کا حکم دوسرے سے ملنے کے حکم کی طرح ہے یا نہیں ۹؎ شرح سنہ میں یوں ہی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع