30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2044 -[9] وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَوْله. فَلَمَّا رأى عمر رَضِي الله عَنْهُم غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضب رَسُوله فَجعل عمر رَضِي الله عَنْهُم يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عمر يَا رَسُول الله كَيفَ بِمن يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ» . أَوْ قَالَ: «لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ» . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ: «وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ» . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُوم يَوْمًا وَيفْطر يَوْمًا قَالَ: «ذَاك صَوْم دَاوُد عَلَيْهِ السَّلَام» قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ: «وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ» . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاث مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا آپ روزے کیسے رکھتے ہیں تو اس کی بات سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ۱؎ جب حضرت عمر نے آپ کی ناراضی دیکھی تو عرض کیا ہم اﷲ کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفےٰ کے نبی ہونے سے راضی ہیں ہم اﷲ و رسول کے غضب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ۲؎ حضرت عمر یہ بار بار کہتے رہے حتی کہ حضور کی ناراضی جاتی رہی ۳؎ پھر حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ جو ساری عمر روزے رکھے وہ کیسا فرمایا نہ اس نے روزے رکھے نہ افطار کیا یا فرمایا نہ روزہ رکھ سکا اور نہ افطار کرسکا۴؎ عرض کیا جو دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۵؎ عرض کیا جو ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں ۶؎ عرض کیا جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا میری تمنا ہے کہ مجھے یہ طاقت ملتی ۷؎ پھر فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور رمضان سے رمضان تک کے روزے ساری عمر کے روزے ہیں۸؎عرفہ کے دن کا روزہ مجھے اﷲ کے کرم پر امید ہے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا کفارہ ہوجائے ۹؎ اور عاشورہ کے دن روزہ مجھے اﷲ کے کرم پر امید ہےکہ پچھلے سال کا کفارہ بنادے۔(مسلم) |
۱؎ چند وجہ سے یہ ناراضی ہوئی:ایک یہ کہ سوال میں بے ادبی کا شائبہ ہے،سائل کو چاہئیے کہ اپنے متعلق سوال کرے نہ کہ مفتی کے بارے میں،انہیں پوچھنا چاہئیے تھا کہ میں کس طرح روزے رکھا کروں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مختلف تھے آپ کبھی زیادہ روزے رکھتے تھے کبھی کم تو جواب دشوار تھا۔تیسرے یہ کہ بہت سے نیک اعمال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کم کرتے تھے تاکہ امت پر دشواری نہ ہو ان پر آسانی رہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اسلام حقوق ازواج اور سلطنت کے انتظام، مہمانوں کی تواضع میں زیادہ مشغول رہتے تھے جس کی وجہ سے روزے کبھی کم رکھتے تھے۔پانچویں یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے اعمال پر وہ ثواب ملتا تھا جو دوسروں کو زیادہ اعمال پر بھی نہیں ملتا۔ممکن تھا کہ وہ سائل حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سن کر انہیں کم سمجھتا جیسے بعض لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات سن کر انہیں کم جانا۔(مرقات و اشعہ ولمعات)
۲؎ یعنی میں سارے مسلمانوں کی طرف سے عرض کرتا ہوں کہ ہم سے جو بے ادبیاں سرزد ہوجاتی ہیں ان کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں آپ کے مراتب کا انکار ہے بلکہ محض درباری آداب سے ناواقفیت کی بنا پر ہے۔اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا۔شعر
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع