30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس موقعہ پر اگر فرمایا،یہ اگر اپنے شک کے لیے نہیں بلکہ اوروں کو شک میں رکھنے کے لیے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنۡ یَّعْلَمِ اللہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ خَیۡرًا"۔
|
2042 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بقدح لبن وَهُوَ وَاقِف عل بعيره بِعَرَفَة فشربه |
روایت ہے حضرت ام الفضل بنت حارث سے ۱؎ کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق گفتگو کی بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار نہیں ۲؎ تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ حضور انور کی خدمت میں بھیجا جب کہ آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر قیام فرما تھے تو آپ نے پی لیا ۳؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ آپ کا نام لبابہ ہے،حضرت عباس کی بیوی عبداﷲ ابن عباس و فضل ابن عباس کی والدہ ہیں،ام المؤمنین حضرت میمونہ کی بہن ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲؎ یہ واقعہ حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن ہوا جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام فرما تھے۔خیال رہے کہ یہاں صیام مصدر ہے جمع نہیں جیسے قیام کبھی مصدر ہے کبھی جمع،صیام صوم کی جمع بھی آئی ہے اور صائم کی بھی اور مصدر بھی۔
۳؎ سبحان اﷲ! ام الفضل کی فراست پر قربان جاؤں کہ آپ نے نہایت آسانی سے ان کا جھگڑا ختم کردیا اور دودھ بھیجا کیونکہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مرغوب تھا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ عرفہ کا روزہ غیرحاجی کے لیے سنت ہے حاجی کے لیے سنت نہیں بلکہ ایسے کمزور کو جو روزہ رکھ کر ارکان حج ادا نہ کرسکے مکروہ ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر دودھ پینا اسی کے اظہار کے لیے تھا۔
|
2043 -[8] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِما فِي الْعشْر قطّ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بقر عید کے عشرہ میں کبھی روزہ رکھتے نہ دیکھا ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس میں ام المؤمنین اپنے علم کی نفی کررہی ہیں نہ کہ اصل روزے کی لہذا یہ حدیث نسائی کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ آپ نویں بقر عید کو روزہ رکھتے تھے،نیز سرکار نے فرمایا کہ بقر عید کے پہلے عشرے کا ہر روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اس میں ہر رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ بعد رمضان بقر عید کے پہلے عشرے کی عزت ہے۔خیال رہے کہ اگر نفی اور ثبوت کی احادیث میں تعارض ہو تو ثبوت والی احادیث کو ترجیح ہوتی ہے۔(مرقات)
|
2044 -[9] وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَوْله. فَلَمَّا رأى عمر رَضِي الله عَنْهُم غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضب رَسُوله فَجعل عمر رَضِي الله عَنْهُم يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عمر يَا رَسُول الله كَيفَ بِمن يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ» . أَوْ قَالَ: «لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ» . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ: «وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ» . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُوم يَوْمًا وَيفْطر يَوْمًا قَالَ: «ذَاك صَوْم دَاوُد عَلَيْهِ السَّلَام» قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ: «وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ» . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاث مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا آپ روزے کیسے رکھتے ہیں تو اس کی بات سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ۱؎ جب حضرت عمر نے آپ کی ناراضی دیکھی تو عرض کیا ہم اﷲ کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفےٰ کے نبی ہونے سے راضی ہیں ہم اﷲ و رسول کے غضب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ۲؎ حضرت عمر یہ بار بار کہتے رہے حتی کہ حضور کی ناراضی جاتی رہی ۳؎ پھر حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ جو ساری عمر روزے رکھے وہ کیسا فرمایا نہ اس نے روزے رکھے نہ افطار کیا یا فرمایا نہ روزہ رکھ سکا اور نہ افطار کرسکا۴؎ عرض کیا جو دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۵؎ عرض کیا جو ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں ۶؎ عرض کیا جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا میری تمنا ہے کہ مجھے یہ طاقت ملتی ۷؎ پھر فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور رمضان سے رمضان تک کے روزے ساری عمر کے روزے ہیں۸؎عرفہ کے دن کا روزہ مجھے اﷲ کے کرم پر امید ہے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا کفارہ ہوجائے ۹؎ اور عاشورہ کے دن روزہ مجھے اﷲ کے کرم پر امید ہےکہ پچھلے سال کا کفارہ بنادے۔(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع