30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی درمیان رمضان میں سفر کرے تو اسے افطار جائز نہیں اس پر روزہ ہی فرض ہے،افطار کی اجازت صرف اسے ہے جسے بحالت سفر رمضان شرو ع ہو۔اس حدیث میں ان کی کھلی تردید ہے،دیکھو سولہ رمضان کو سفر شروع ہوا اور بعض صحابہ نے روزے نہ رکھے۔
۲؎ یہ حدیث بظاہر ان علماء کی دلیل ہے جو سفر میں روزہ رکھنے نہ رکھنے کو یکساں کہتے ہیں کسی کو ترجیح نہیں دیتے مگر یہ استدلال ضعیف ساہے کیونکہ یہاں عیب لگانے کی نفی ہے ترک مستحب پر نہ عیب لگایاجاتاہے نہ اعتراض ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اس غزوہ میں حالات معمول پر ہوں گے ورنہ بحالت جنگ روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
|
2021 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»قَالُوا:صَائِمٌ.فَقَالَ:«لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ» |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور ایک شخص کو ملاحظہ کیا جس پر سایہ کیا گیا تھا ۱؎ فرمایا یہ کیا ہے لوگوں نے کہا ایک روزہ دار ہے فرمایا سفر میں یوں روزہ رکھنا بھلائی نہیں ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ان صاحب کا نام قیس یا قیصر ہے،کنیت ابو اسرائیل ہے،گرمی سخت تھی،سفر کی حالت تھی،غزوہ تبوک کا موقعہ تھا،جب کہ لشکر اسلام میں کھانے کی بھی کمی تھی،یہ ایک درخت کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے،بغیر سحری کا روزہ منہ میں تھاکہ بے ہوش ہو کر گر گئے،صحابہ کرام نے اپنی چادروں سے سایہ کرلیا یا ان پر خیمہ لگادیا کیونکہ عرب کے عام درختوں کا سایہ کافی نہیں ہوا کرتا۔(ازمرقات)
۲؎ بلکہ برا ہے یا تو الصوم میں الف لام عہدخارجی ہے یا سفر میں یا دونوں میں یعنی ایسے سخت سفر میں ایسا بے سرور سامانی کا روزہ بھلائی نہیں بلکہ برا ہے اور رب تعالٰی کے اس فرمان کے خلاف ہے"یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْر" لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سفر میں روزے رکھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صالحین کی خدمت نوافل سے افضل ہے یعنی یہ صاحب اگر روزہ نہ رکھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی خدمت کرتے، اب روزہ رکھ کر خود جلیل القدر صحابہ سے خدمت لینے لگے۔
|
2022 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي وم حَارٍّ فَسَقَطَ الصَّوَّامُونَ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ہم میں سے بعض روزہ دار تھے بعض بے روزہ ہم گرم دن میں ایک منزل پر اترے روزہ دار تو گر گئے ۱؎ اور بے روزہ کھڑے رہے انہوں نے خیمے لگائے اونٹوں کو پانی پلایا ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج بے روزہ ثواب لے گئے ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی روزہ دار حضرات ضعف کی وجہ سے منزل پر پہنچتے ہی لیٹ گئے کوئی کام نہ کرسکے،یہاں گرنے سے مرادبے ہوش ہوکر گرنا نہیں ورنہ ان پربھی وہ عتاب ہوجاتا جو پچھلی حدیث میں گزرا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع