30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2013 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَإِنْ صَامَهُ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَ الدَّارِمِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي البُخَارِيّ يَقُول. أَبُو الطوس الرَّاوِي لَا أَعْرِفُ لَهُ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے جو رمضان میں بغیر شرعی اجازت اور بغیر بیماری ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو اگرچہ پھر عمر بھر روزہ رکھے اس کی قضا نہ کرے گا ۱؎ (احمد،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ دارمی)اور بخاری نے ترجمہ باب میں روایت کیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد یعنی امام بخاری کو فرماتے سنا کہ ابو المطوس راوی سے اس حدیث کے سواء اور حدیث مجھے معلوم نہیں ۲؎ |
۱؎ یعنی بلاوجہ رمضان میں ایک روزہ بھی نہ رکھنے والا اس کے عوض عمر بھر روزہ رکھے تو وہ درجہ اور ثواب نہ پائے گا جو رمضان میں رکھنے سے پاتا اگرچہ شرعًا ایک روزہ سے اس کی قضا ہوجائے گی ادائے فرض اور ہے درجہ پانا کچھ اور۔رخصت سے مراد شرعی اجازت ہے جیسے سفر یا عورت کا حمل یا بچہ کو دودھ پلانا وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ وقت پر عبادت کرلینا بہت بہتر ہے،نماز وغیرہ ساری عبادت کا یہی حال ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے کہ عبادات کا اصل وقت جوانی ہے۔شعر
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
وقت کی قدر کرو،اسے غنیمت جانو۔ ع! گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔
۲؎ یعنی اس حدیث کی اسناد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنے والے راوی ابوالمطوس ہیں ان سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے ابن خلف قرطبی نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر خیال رہے کہ ایک اسناد ضعیف ہونے سے متن حدیث کا ضعیف ہوجانا لازم نہیں،ترمذی کی اسناد میں ابوالمطوس ہیں باقی ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی و احمد نے مختلف اسنادوں سے یہ حدیث نقل کی،تعدد اسناد ضعیف حدیث کو قوی کردیتا ہے۔ (مرقات)
|
2014 -[16] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ من قِيَامه إِلَّا السهر» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے روزے دار وہ ہیں جنہیں روزوں سے پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ۱؎ اور بہت سے شب خیز وہ ہیں جنہیں شب خیزی میں بے خوابی کے سواء کچھ میسر ۲؎(دارمی)اور لقیط ابن صبرہ کی حدیث باب سنن الوضوء میں بیان کردی گئی۔ |
۱؎ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے میں گالی گلوچ،جھوٹ،غیبت،بہتان وغیرہ گناہوں سے نہیں بچتے کہ یہ لوگ بھوک پیاس کی تکلیف تو اٹھاتے ہیں مگر روزہ کا ثواب حاصل نہیں کرتے،چونکہ روزے میں بمقابلہ بھوک کے پیاس کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے اس لیے صرف پیاس کا ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ ایسے روزے سے فرض شرعی ادا ہوجائے گا ادا اور چیز ہے اس کے شرائط کچھ اور اور قبولیت دوسری چیز ہے اس کے شرائط بھی دوسرے۔
۲؎ یعنی وہ تہجد خواں جو حضور قلبی کے بغیر تہجد پڑہیں وہ جاگنے کی مشقت تو اٹھالیتے ہیں مگر اس کا ثواب نہیں پاتے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو مغصوب زمین میں نماز پڑھیں اور نماز میں ممنوعات سے بچیں نہیں اورسنن و مستحبات کا لحاظ نہ رکھیں اس فرمان کا منشاء یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگ روزہ یا تہجد چھوڑ دیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ برائیاں چھوڑ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع