30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہاں حق سے مراد شریعت کا حق فرضی ہے یعنی زکوۃ کیونکہ نفلی حق کے ترک پر عذاب نہیں ہوتا جو کبھی بھی زکوۃ ادا نہ کرے اس کی بھی یہی سزا ہے اور گنڈے دار زکوۃ دیتا ہو کہ کبھی دی کبھی نہ دی یا پوری نہ نکالی اس کی بھی یہی سزا کیونکہ یہاں لَایُؤَدِّیْمطلق ہے۔
۲؎ اس کی سزا پہلےگزر چکی،یہاں اتنا اور سمجھ لو کہ یہ وہی دنیا کے جانورہوں گے مگر جو دبلے تھے وہ موٹے ہوکر،جو بے سینگ تھے وہ سینگ والے ہوکر اس بخیل پر مسلط ہوں گے اوربخیل کو یہ عذاب دوران حساب میں ہوگا کہ لوگ حساب دے رہے ہوں گے اور یہ پڑا ہوا کچلا جارہا ہوگا،دوزخ کا عذاب اگر ہوا تو اس کے علاوہ ہوگا۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ قیامت میں جن و انس کی طرح جانوربھی زندہ کئے جائیں گے مگر دوزخ یا جنت میں بھیجنے کے لیے نہیں کیونکہ دوزخ صرف جن و انس کے لیے ہے اور جنت صرف انسانوں کے لیے بلکہ آپس میں ایک دوسرے کا بدلہ دینے کے لیے،فاسق مالکوں کو سزا دینے اور متقی مالکوں کی خدمت کرنے کے لیے۔حدیث شریف میں ہے کہ قربانی کا جانور مالک کی سواری ہوکر اسے پلصراط سے اتارے گا اس کے بعد یہ جانور مٹی کردیئے جائیں گے۔دوسرے یہ کہ اگر ایک جانور چند شخصوں کی ملکیت میں رہا تھا اور وہ سب بخیل تھے تو ان تمام مالکوں کو اپنے قدموں سے روندیں گے اور اگر کوئی جانور پہلے بخیل کی ملکیت میں رہا،پھر دوسرے مالک کے پاس قربانی میں ذبح ہوا تو بخیل کو روندے گا اور اس کے بعد قربانی والے کی سواری بنے گا۔
|
1776 -[5] وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلْيَصْدُرْ عَنْكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تمہارے پاس صدقہ وصول کرنے والا آئے ۱؎ تو وہ تم سے راضی ہو کر لوٹے۲؎ (مسلم) |
۱؎ مال ظاہری یعنی جانوروں اور پیداوار کی زکوۃ سلطان اسلام وصول کرتے اور اسے صحیح مصرف پر خرچ کرتے تھے۔یہ زکوۃ وصول کرنے کے لیے بہت آدمی ملازم رکھے جاتے تھے انہیں مصدق بھی کہتے تھے اور عامل بھی۔سرکار فرمارہے ہیں کہ ہمارا یا ہمارے بعد اسلامی عادل بادشاہوں کا زکوۃ وصول کرنے والا آدمی تمہارے پاس آئے۔
۲؎ اس طرح کہ تم اس سے خندہ پیشانی سے ملو اور سارا ظاہری مال اسے دکھادو تاکہ وہ آٓٓسانی سے حساب کرکے زکوۃ وصول کرے اسے دیکھ کر غمگین نہ ہو،مال چھپانے کی کوشش نہ کرو ٹال مٹول سے کام نہ لو بلکہ باطنی مال یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ بھی خوشدلی سے دی جائے اور مسکین کو خوش کرکے دی جائے۔خدا کا شکر کیا جائے کہ اس نے ہمیں دینے کے قابل کیا نہ کہ لینے کے۔
|
1777 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ: «اللَّهُمَّ صلى على آل فلَان».فَأَتَاهُ أبي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ صلى الله على آل أبي أوفى»وَفِي رِوَايَة: " إِذا أَتَى الرجل النَّبِي بِصَدَقَتِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ صلي عَلَيْهِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی اوفی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی قوم اپنا صدقہ لاتی ۲؎ تو آپ فرماتے الٰہی فلاں کی اولاد پر رحمتیں نازل کر۳؎ میرے والد اپنا صدقہ لائے تو آپ نے فرمایا الٰہی ابی اوفی کی اولاد پر رحمت کر۴؎ (مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا صدقہ لاتا تو آپ فرماتے الٰہی اس پر رحمت کر۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع