30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہانا مکروہ نہیں جب کہ گھبراہٹ کے اظہار کے لیے نہ ہو،اگر دکھلاوے اور گھبراہٹ کے اظہار کے لیے ہو تو مکروہ ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔
|
2012 -[14] وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَجُلًا بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي لِثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ: وَتَأَوَّلَهُ بَعْضُ مَنْ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ: أَيْ تَعَرُّضًا لِلْإِفْطَارِ: الْمَحْجُومُ لِلضَّعْفِ وَالْحَاجِمُ لِأَنَّهُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يَصِلَ شَيْءٌ إِلَى جَوْفِهِ بمص الملازم |
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص پر تشریف لائے جو فصد لے رہا تھا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑے تھے ۱؎ رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے تو فرمایا فصد لینے والے اور فصدکرانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)شیخ امام السنۃ رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ جن بعض علماء نے فصد کی اجازت دے دی وہ اس کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ دونوں قریب الافطار ہوگئے فصد کرانے والا تو ضعف کی وجہ سے اور فصدکرنے والا اس لیے کہ وہ اس سے امن میں نہیں کہ سینگی چوسنے کی وجہ سے اس کے پیٹ میں کچھ پہنچ جائے۳؎ |
۱؎ یعنی میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ہی قریب تھا لہذا میں نے آپ کے کلمات نہایت صحیح سنے یا یہ مطلب ہے کہ مجھ پر اس دن اﷲ کا بڑا فضل تھا کہ میرا ہاتھ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا ہوا تھا۔
۲؎ یہی مذہب ہے امام احمد و اسحاق کا فصد سے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے روزے میں بارہا فصد کرائی ہے لہذا یہ حدیث یا منسوخ ہے یا اس کی تاویل لازم ہے۔چنانچہ علماء نے اس کی بہت تاویلیں کی ہیں جن میں سے ایک تاویل وہ ہے جو خود مشکوٰۃ شریف میں ہی آگے آرہی ہے۔
۳؎ فصد لینے والا پہلے نشتر سے عضو پر زخم لگاتا ہے،پھر سنگی کا چوڑا حصہ زخم پر رکھ کر اس کا باریک حصہ اپنے منہ میں لے کر زور سے چوستا ہے پھر اس سوراخ کو آٹے وغیرہ سے بند کردیتا ہے جس سے عضو کا خون جمع ہوتا رہتا ہے،خون نکل جانے کی وجہ سے فصد کرانے والا بہت کمزور ہوجاتا ہے بسا اوقات فورًا اسے کچھ کھانا پینا پڑتا ہے اور فصد لینے والے کے منہ بلکہ حلق میں بے اختیاری طور پر چوستے وقت کچھ خون پہنچ جاتا ہے لہذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دونوں قریب الافطار ہوگئے،فصد لینے والا تو اس لیے کہ شاید کچھ خون حلق میں اتر گیا ہو اور فصد کرانے والا اس لیے کہ شاید وہ زیادتی کمزوری کی بنا پر کچھ کھانے پینے پر مجبور ہوجائے۔ سنگی کو ملازم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زخم سے چپٹ جاتی ہے ۔بعض علماء نے فرمایا کہ وہ دونوں صاحب فصد کے وقت غیبتیں بھی کررہے تھے اس غیبت کی وجہ سے فرمایا کہ ان کا روزہ جاتا رہا یعنی روزے کا ثواب جاتا رہا،بعض نے فرمایا کہ وہ دونوں ہی حضرات شام کے وقت افطار کے قریب فصد کا کام کررہے تھےتب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یعنی یہ دونوں افطار کرنے والے ہی تھے تھوڑا اور ٹھہر جاتے۔غرضکہ یہ حدیث واجب التاویل ہے اور فصد کرانے والی حدیثوں کے خلاف نہیں۔
|
2013 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَإِنْ صَامَهُ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَ الدَّارِمِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي البُخَارِيّ يَقُول. أَبُو الطوس الرَّاوِي لَا أَعْرِفُ لَهُ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے جو رمضان میں بغیر شرعی اجازت اور بغیر بیماری ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو اگرچہ پھر عمر بھر روزہ رکھے اس کی قضا نہ کرے گا ۱؎ (احمد،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ دارمی)اور بخاری نے ترجمہ باب میں روایت کیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد یعنی امام بخاری کو فرماتے سنا کہ ابو المطوس راوی سے اس حدیث کے سواء اور حدیث مجھے معلوم نہیں ۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع