دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

مسواک کرسکتا ہوں فرمایا ہاں پوچھا دن کے کس حصہ میں فرمایا ہر حصہ میں۔خیال رہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو رب تعالٰی کو ایسی ہی پیاری ہے جیسے غازی کے قدم کی گردوغبار،اگر غازی اپنے قدموں پر ویسے ہی خاک ڈال لے تو ثواب ملتا نہیں اور اگر وہ قدموں کی دھول جھاڑ دے تو ثواب گھٹتا نہیں،ایسے ہی اگر وہ روزہ دار بہ تکلف منہ میں بو پیدا کرلے تو ثواب ملتا نہیں اور اگر مسواک کرے تو ثواب گھٹتا نہیں اسی لیے بیہقی،ابن حبان،طبرانی وغیرہ میں عام صحابہ کا یہ عمل بیان ہوا کہ وہ حضرات روزے میں ہر وقت مسواک کرلیتے تھے۔ اس کی پوری تحقیق یہاں مرقاۃ میں دیکھو۔

۲؎  اس حدیث کو ترمذی نے حسن فرمایا اور احمد و ابن خزیمہ نےبھی روایت کیا۔

2010 -[12

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اشتكيت عَيْني أَفَأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَأَبُو عَاتِكَةَ الرَّاوِي يضعف

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میں آنکھوں کا بیمار ہوں کیا بحالت روزہ سرمہ لگاسکتا ہوں فرمایا ہاں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ابو عاتکہ راوی ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

۱؎ یہی تینوں اماموں کا مذہب ہے یعنی امام ابوحنیفہ،شافعی و مالک کہ روزہ دار کو سرمہ لگانا،آنکھ میں خشک یا پتلی اگرچہ چکنی ہو دوا ڈالنا ہر وقت جائز ہے یعنی سونے سے پہلے بھی اور بعد بھی اگر دوا کا رنگ یا مزا حلق میں محسوس ہو جب بھی مضر نہیں،امام احمد سونے سے پہلے سرمہ لگانا مکروہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان تینوں آئمہ کی دلیل ہے۔

۲؎ یہ حدیث بہت طریقوں سے مختلف اسنادوں سے بہت کتب میں مروی ہے تمام اسنادیں ضعیف ہیں لیکن زیادتی اسناد اور عمل علماء کی وجہ سے قوی ہوگئی تمام اسنادیں بالتفصیل یہاں مرقات نے نقل فرمائیں اور اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو کہ تعدد اسناد اور عمل علماء سے حدیث ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔

2011 -[13]

وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں ۱؎ بحالت روزہ سر مبارک پر پیاس یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے دیکھا ۲؎(مالک،ابوداؤد)

۱؎ عرج مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک منزل کا نام تھا اور مدینہ منورہ میں ایک محلہ بھی تھا،یہاں دونوں احتمال ہیں کہ یا یہ سفر کا واقعہ ہو یا گھر کا۔

۲؎ یعنی غسل نہیں فرمارہے تھے بلکہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے صرف سر شریف پر پانی بہارہے تھے۔اس حدیث سے یہ دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسامات کے ذریعہ جو پانی وغیرہ جسم میں پہنچ جائے وہ روزہ کے لیے مضر نہیں لہذا روزے دار کا نہانا پانی میں غوطہ لگانا،سریا جسم پر تیل کی مالش کرنا،بھیگا کپڑا جسم پر لپیٹنا روزے کے لیے مضر نہیں۔ٹیکے(Injection)گودنے کا مسئلہ پہلے بیان ہوچکا کہ ان سے روزہ نہیں جاتا جیسے سانپ،بچھو،بھڑ کے کاٹ لینے سے۔دوسرے یہ کہ روزے میں سر پر پانی ڈالنا،زیادہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن