دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

باب تنزیہ الصوم

باب روزے کو پاک و صاف رکھنا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ تنزیہ کے لغوی معنی ہیں دور رکھنا یا الگ کرنا۔اصطلاح شریعت میں تنزیہ صوم یہ ہے کہ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا مکروہ ہوجاتا ہے یا اس کا ثواب کم ہوجاتاہے ان سے روزہ کو الگ رکھنا یعنی روزہ دار کا الگ رہنا تاکہ روزہ ہر نقصان سے پاک وصاف رہے یہ چیز بہت ضروری ہے۔

1999 -[1]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جھوٹی باتیں اور برے کام نہ چھوڑے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی کو اس کے کھانا پانی چھوڑ دینے کی پرواہ نہیں۲؎(بخاری)

۱؎ یہاں جھوٹی بات سے مراد  ہر ناجائز گفتگو ہے،جھوٹ،بہتان،غیبت،چغلی،تہمت،گالی،لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے اور برے کام سے مراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا،چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضاء کے گناہوں سے زیادہ ہیں اس لیے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا،یہ حدیث بہت جامع ہے۔دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ برے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی برے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ برے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اور ماہ رمضان کی بے ادبی ہے اس لیے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے، کیوں؟ اس زمین پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔

۲؎ یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں کیونکہ اﷲ تعالٰی ضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنی توجہ،التفات،پرواہ یعنی اﷲ تعالٰی ایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائط جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا مگر   شرائط قبول میں باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ  کا  اصل مقصود  ہے۔روزہ  کا  منشاء نفس کا  زور توڑنا ہے جس کا  انجام  گناہ چھوڑنا ہے جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہئیے،صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو،مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔

2000 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لأربه

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار کرلیتے تھے اور حضور اپنے نفسی حاجت پر سب سے زیادہ مالک(قادر)تھے ۱؎(مسلم، بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن