دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

1988 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِنَاءُ فِي يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے نہ رکھے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی بوقت افطار اذان مغرب ہوتی رہے تم روزہ افطار تے رہو افطار سے فارغ ہوکر نماز کو آؤ اذان سن کر افطار کا کھانا پینا نہ چھوڑ دو یا سحری کے وقت اگر اذان فجر ہوجائے اور تمہیں غالب گمان ہو کہ ابھی پو نہیں پھٹی ہے مؤذن نے غلطی سے اذان کہہ دی ہے تو سحری کھاتے پیتے رہو۔(مرقات،اشعۃ اللمعات،لمعات)لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے اس پر یہ لازم نہیں آتا کہ فجر کی اذان کے وقت سحری کھاتے رہو۔

1989 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فطرا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میرے بندوں میں مجھے بہت پیارے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں  ۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی یہود و نصاری یا روافض سے بہتر مسلمان اہل سنت ہیں کہ وہ لوگ روزہ دیر سے کھولتے ہیں اور سنی مسلمان جلد افطار لیتے ہیں سورج ڈوب چکنے کے بعد دیر نہیں لگاتے کیونکہ جلدی افطار سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت صحابہ بلکہ سنت انبیاء علیہم السلام ہے اور جلدی افطار میں رب تعالٰی کی رحمت کی طرف جلد ی کرنا ہے اپنی حاجت مندی کا اظہار ہے۔(ترمذی)

1990 -[9]

وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَلَمْ يَذْكُرْ: «فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ» غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی روزہ افطارکرنے لگے تو چھوارے پر افطارے کہ یہ برکت ہے ۱؎ پھر اگر چھوارہ نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کہ یہ پاک کرنے والا ہے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اور انہ برکۃ کا لفظ ترمذی کے سواءکسی نے روایت نہ کیا۔(اپنی دوسری روایت میں)

۱؎ چھوارے سے روزہ افطارنا چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے صحابہ کرام کی سنت ہے،نیز خالی پیٹ میٹھی چیز کھانا تندرستی خصوصًانظر کے لیے بہت مفید ہے اس لیے یہ عمل دینی و دنیاوی برکتوں کا ذریعہ ہے کھجور محبوب بندوں کی غذا ہے۔

۲؎ یعنی پانی جیسے جسم کو پاک کرنے والا ہے ایسے ہی دل و دماغ کو بھی پاک و صاف کرنے والا ہے،نیز پانی میں حرام ہونے کا احتمال بہت کم ہوتا ہے کہ کنوئیں کا پانی جنگل کا شکار اصل میں مباح ہے دوسری چیزوں میں احتمال ہے کہ حرام کمائی سے حاصل کی گئی ہوں روزہ حلال سے افطارکرنا بہتر ہے یہ امر استحبابی ہے۔

1991 -[10]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رطبات فَإِن لم تكن فتميرات فإنلم تكن تُمَيْرَات حسى حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے چند ترکھجوروں پر روزہ افطار تے تھے ۱؎ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک چھواروں پر ۲؎ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۳؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن