دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

باب

باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  چونکہ اس باب میں روزے کے متعلق مختلف احادیث لائیں گے اس لیے اس باب کا کوئی ترجمہ مقرر نہ فرمایا،بعض نسخوں میں باب السحور وغیرہ ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ باب بغیر ترجمہ کے ہے۔

1982 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بركَة»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں  فرمایا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سحری کھاؤ ۱؎ کہ سحری میں برکت ہے۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی کیونکہ روزہ کے لیے سحری مستحبہ ہے واجب یا فرض نہیں۔صبح سے پہلے کے وقت کو سحر کہتے ہیں اور اس وقت کھانے یا پینے کو سحری یعنی آخر رات کی غذا،سحری کا وقت آدھی رات سے شروع ہوجاتا ہے مگر سنت یہ ہے کہ رات کے آخری چھٹے حصے میں کھائی جائے۔

۲؎  سحور سین کے پیش سے بھی ہے اور زبر سے بھی مگر زبر سے زیادہ فصیح ہے،بعض نے فرمایا کہ سحور سین کے پیش سے سحری کھانا،اور سین کے زبر سے اس وقت کی غذا۔(مرقات و اشعہ)سحری کا کھانا مبارک ہے اور اس کھانے کے استعمال میں برکت ہےکیونکہ یہ سنت ہے اور سنت مبارکہ ہے،نیز اس کھانے سے روزے میں مدد ملتی ہے،نیز اس کھانے کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں وکفار کے روزوں میں فرق ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ علماء سے روشنائی،دوپہری میں قدرے آرام کرنا،روزوں میں سحری کھانا سب مبارک ہیں کہ ان کا تعلق عبادات سے ہے جب عبادت کے تعلق سے عادت مبارک بن جاتی ہے تو دنیا دین ہوجاتی ہے تو حضرات انبیاء و اولیاء سے جس چیز کو نسبت ہوجائے وہ بھی یقینًا مبارک ہو جاتی ہے،دیکھو شب قدر مبارک،ماہ رمضان مبارک ہےکیونکہ انہیں عبادتوں سے تعلق ہے،عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے متعلق فرمایا تھا:"وَّجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا"مجھے اللہ نے مبارک بنایا یہ حضرات بذات خود مبارک ہیں اور ان کیطرف منسوب چیزیں ان کی وجہ سے مبارک۔

1983 -[2]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کے چند لقمے ہیں ۱؎(مسلم)

۱؎ اکلہ الف کے پیش اور کاف کے جزم سے،بمعنی لقمے یا نوالے اور الف کے زبر سے بمعنی کھانا یعنی سحری کے نوالے یا سحری کھانا مسلمان اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہیں کیونکہ ان کے ہاں رات کو سونے کے بعد کھانا حرام ہوجاتا ہے،اسلام میں بھی پہلے یہی حکم تھا اب پوپھٹنے تک کھانا پینا حلال کردیا گیا،سحری کھانے میں اﷲ کی دعوت کا قبول کرنا ہے اور اس کی اس نعمت کا شکریہ۔اُکْلَہ فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ سحری تھوڑی کھانا بہتر ہے اتنی زیادہ کہ دوپہر تک کھٹی ڈکاریں آئیں بہتر نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن