30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریف میں ہے کہ مؤمن پر اس کے گھوڑے اور غلام میں صدقہ نہیں وہاں گھوڑے سے مراد یا تو غازی کا گھوڑا ہے یا وہ گھوڑا جو گھر میں گھاس چارہ کھاتا ہو۔اس مسئلہ کی پوری تحقیق لمعات شرح مشکوٰۃ میں ملاحظہ کریں۔خیال رہے کہ صرف گھوڑوں یا صرف گھوڑیوں میں زکوۃ نہیں بلکہ مخلوط میں زکوۃ ہے کہ یا تو ہر گھوڑے سے ایک دینار(اشرفی)دیدے یا اس کی قیمت لگا کر ہر ستاون روپے سے چالیسواں حصہ زکوۃ نکال دے۔چنانچہ حضرت عمرنے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کو جو خط لکھا تھا اس میں یہ تھا کہ گھوڑے والوں کو یہ اختیار دو۔(ہدایہ،کفایہ وغیرہ)
۲۲؎ یعنی آج اس کے اور لوگوں کی حاجت کے درمیان پردہ ہیں کل قیامت میں اس کے اور آگ کے درمیان پردہ ہوں گے یہ کلمہ دونوں کو شامل ہے۔
۲۳؎ یعنی جہاد کی نیت سے بغرض ثواب گھوڑا پالے،چونکہ جہاد کا نفع مسلمانوں کو پہنچتا ہے اس لیے لِاَھْلِ الْاِسْلَامِبھی فرمایا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ عبادات میں بندگانِ خدا کی خدمت کی نیت کرنا عبادت کو ناقص نہیں کرتا بلکہ اسے کامل ترکردیتا ہے جیساکہ قرآن کریم کی صریح آیت سے ثابت ہے۔عربی میں مرج اس وسیع میدان کو کہتے ہیں جس میں گھاس چارہ وغیرہ بکثرت ہو۔
۲۴؎ کیونکہ اس کھانے اور پیشاب و لید وغیرہ سے ان گھوڑوں کی بقاہے اور جیسے نیکی کے اسباب جمع کرنا عبادت ہے ایسے ہی ان کی حفاظت بھی عبادت ہے،نیز یہ چارہ و گھاس مالک نے اپنے مال سے کھلایا اور یہ لید پیشاب اس چارہ سے بنا۔معلوم ہوا کہ نیکی متغیر ہونے کے بعدبھی نیکی ہی رہتی ہیں۔
۲۵؎ یہ گھوڑے کیل سے بندھے ہوئے جو حرکت کریں یا کھائیں پئیں وہ تو اس مالک کے لیے نیکیاں ہیں ہی، اگر مالک کے بغیر ارادہ رسی کو توڑا کر بھاگ جائیں اور اس حالت میں زمین پر ان کے قدم پڑیں یا وہ لید پیشاب کریں تب بھی مالک کو ثواب ہے۔ خیال رہے کہ ثواب کے لیے اگرچہ نیت ضروری ہے مگر ہر آن نئی نیت لازم نہیں،مسجد بنانے والا مربھی جائے تو اسے قبر میں ثواب پہنچتا رہتا ہے بناتے وقت کی نیت قیامت تک کام آتی ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ"اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ"۔خیال رہے کہ لید و پیشاب کا ذکر فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ جب آلۂ جہاد یعنی گھوڑوں کی گندی چیزیں بھی ثواب میں شامل ہوجاتی ہیں تو اصل گھوڑے کا کیا پوچھنا اور پھر مالک کے درجہ کا کیا کہنا،گھوڑا صرف مثال کے لیے ہے اب گولی، بارود،بندوق،توپ،ہوائی جہاز اور راکٹ جو جہاد کے لیے ہوں سب کا یہ ہی حکم ہے۔
۲۶؎ یعنی یہ سب کام کرتا ہے گھوڑا اور نیکیاں پاتا ہے اس کا مالک اگرچہ مالک نے ارادہ بھی نہ کیا ہو اس کی وجہ ابھی بیان ہوچکی۔
۲۷؎ یعنی گدھوں میں زکوۃ واجب نہیں بلکہ ایک قاعدہ کلیہ کے ماتحت ان میں ثواب ہے کہ اگر گدھے،خچر وغیرہ نیک نیتی سے پالے گئے تو ان میں ثواب ہےاور اگر بدنیتی سے پالے گئے تو عذاب اور اگر دنیوی کاروبار کے لیے ہیں تو نہ ثواب نہ عذاب،چونکہ اس آیت کے الفاظ تھوڑے ہیں اور مضامین و احکام بہت زیادہ اس لیے اسے جامعہ فرمایا گیا اور چونکہ اس مضمون کی یہ ایک ہی بے مثال آیت ہے اس لیے اسے فاذۃ فرمایا گیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑوں میں زکوۃ ہے،گدھوں اور خچروں میں نہیں جیساکہ اوپرعرض کیا گیا،ہاں اگر گدھے و خچر تجارتی ہیں تو ان میں زکوۃ تجارت ہوگی۔
|
1774 -[3] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْخُذ بِلِهْزِمَتَيْهِ - يَعْنِي بشدقيه - يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ". ثُمَّ تَلَا هَذِه الْآيَة: (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ من فَضله)إِلَى آخر الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے اﷲ مال دے ۱؎ پھر وہ اس کی زکوۃ نہ دے تو اس کا مال قیامت کے دن اس کے سامنے گنجے سانپ کی شکل میں ہوگا جس کے دو گیسو ہوں گے ۲؎ قیامت میں اس کا طوق ہوگا پھر اس کے دونوں جبڑے پکڑے گا پھر کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں پھر حضور انور نے یہ آیت تلاوت کی جو بخل کرتے ہیں،الایہ۳؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع