30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1965 -[10] وَعَن سلمَان قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ مُبَارَكٌ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مَنْ أَلْفِ شهر جعل الله تَعَالَى صِيَامَهُ فَرِيضَةً وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بخصلة من الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ وَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْر ثَوَابه الْجنَّة وَشهر الْمُوَاسَاة وَشهر يزْدَاد فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ كلنا يجد مَا نُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيهِ غَفَرَ الله لَهُ وَأعْتقهُ من النَّار» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ |
روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہم میں وعظ فرمایا تو فرمایا اے لوگو تم پر عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے ۱؎ یہ مہینہ برکت والا ہے جس کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے وہ یہ مہینہ ہے جس کے روزے اﷲ نے فرض کئے اور جس کی رات کا قیام نفل بنایا۲؎ جو اس ماہ میں نفلی بھلائی سے قربِ الٰہی حاصل کرے تو گویا اس نے دوسرے مہینہ میں فرض ادا کیا اور جو اس میں ایک فرض ادا کرے تو ایسا ہوگا جیسے اس نے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کئے ۳؎ یہ صبر کا مہینہ ہے ۴؎ اور صبر کا ثواب جنت ہے یہ غربا کی غم خواری کا مہینہ ہے ۵؎ٍ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۶؎ جو اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے گناہوں کی بخشش اس کی گردن کی آزادی آگ سے ہوگی اور اسے روزہ دار کا سا ثواب ملے گا۷؎ اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم ہو۸؎ ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم میں سے ہر شخص وہ نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ۹؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ یہ ثواب اسے دے گا جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا کھجور یا گھونٹ بھر پانی ۱۰؎ سے افطار کرائے اور جو روزہ دار کو سیر کرے اﷲ اسے میرے حوض سے وہ پانی پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا حتی کہ جنت میں داخل ہوجائے ۱۱؎ یہ وہ مہینہ ہے جس کے اول میں رحمت،بیچ میں بخشش اور آخر میں آگ سے آزادی ہے۱۲؎ اور جو اس مہینہ میں اپنے غلام سے تخفیف کرے تو اﷲ اسے بخش دے گا اور آگ سے آزاد کردے گا ۱۳؎ |
۱؎ اس پیشگی اطلاع دینے میں ماہ رمضان کی فضیلت کا اظہار ہے اور مسلمانوں کو اس کی عبادات کے لیے تیار کرنا ہے۔اظل فرما کر اشارۃً بتایا کہ جیسے درخت یا چھت بندے کو اپنے سایہ میں لے کر سورج کی تپش سے بچالیتے ہیں ایسے ہی ماہ رمضان مؤمن کو اپنے سایہ میں لے کر دنیاوی و آخروی عذاب سے بچالیتا ہے گویا رمضان سایہ دار بار دار درخت ہے یا ڈھال ہے۔
۲؎ یہاں نفل لغوی معنی میں ہے یعنی زائد چیز اور رات کے قیام سے مراد تراویح ہے یعنی اس ماہ میں نماز تراویح زائد نماز ہے جو دوسرے مہینوں میں نہیں لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تراویح نفل ہو وہ تو سنت مؤکدہ ہے۔تراویح کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔
۳؎ یعنی ماہ رمضان کی نفل دوسرے مہینوں کی فرض کی برابر ہے اور ا س ما ہ کی فرض عبادت دوسرے ماہ کی ستر فرائض کی مثل ہے لہذا اگر مکہ معظمہ میں رمضان المبارک میں ایک فرض ادا کیا جائے تو اس کا ثواب ستر لاکھ فرض کا ہے کیونکہ اور دنوں وہاں ایک کا ثواب ایک لاکھ ہے تو رمضان میں ستر لاکھ اس حساب سے مدینہ منورہ میں ماہ رمضا ن کی ایک فرض کا ثواب پینتس۳۵ لاکھ ہے یہ زیادتی تو رمضان کے عام دنوں میں ہے شب قدر اور رمضان کے جمعہ کی نیکیاں تو بہت زیادہ ہوں گی۔ان شاء اﷲ!
۴؎ یعنی دوسرے مہینہ شکر کے ہیں جن میں کھاؤ،آرام کرو اور شکر بجالاؤ اس مہینہ میں دن میں نہ کھاؤ رات کو نہ سوؤ اور صبرکرو۔ رمضان کے چار نام ہیں:ماہ رمضان،ماہ صبر،ماہ مواسات،ماہ مبارک ان ناموں کی وجہ ہم نے اپنی "تفسیرنعیمی"میں تفصیل سے لکھی ہے۔
۵؎ کہ اس مہینہ میں قدرتی طور پر مسلمانوں میں غرباء اقرباء کی غم خواری کا جذبہ موجزن ہوتا ہے،بعض لوگ رمضان میں اپنی شادی شدہ لڑکیوں کو بلالیتے ہیں بعض لوگ مہینہ بھر تک مسکینوں کو کھلاتے ہیں،ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے اور مواسات پر عمل ہے مواسات،بمعنی مساہمت ہے سہم بمعنی حصہ سے مشتق یعنی اپنی روزی میں دوسروں کو حصہ دار بنانا،سخاوت کرنا۔
۶؎ رزق حسی بھی اور معنوی بھی ہر سال اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ ہر روزہ دار کو رمضان میں وہ نعمتیں ملتی ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں ملتیں،نیز اس مہینہ میں قدرتی طور پر دل پر وہ اثر ہوتا ہے جو دوسرے مہینوں میں نہیں ہوتا۔
۷؎ یعنی روزہ افطار کرنے والے کو تین فائدے ہوتے ہیں:گناہوں سے بخشش،دوزخ سے آزادی اور اسے روزہ کا ثواب۔بعض لوگ افطار کے وقت مسجدوں میں پھل فروٹ یا کھانے بھیجتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث شریف ہے۔کاٹھیاواڑ اور یوپی میں ہر نمازی مغرب کے وقت کچھ لے کر آتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ہر ایک دوسرے کے کھانے سے روزہ افطار کرے اس کی اصل بھی یہ ہی حدیث ہے۔خیال رہے کہ روزہ افطار کرانے سے ثواب روزہ تو مل جاتا ہے مگر اس سے روزہ ادا نہیں ہوتا لہذاکوئی امیر لوگوں کو افطار کراکے خود روزہ سے بے نیاز نہیں ہوسکتا روزے تو رکھنے ہی پڑیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع