30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ان کے حالات بدلیں گے لہذا یہ جانور دنیا میں جیسے تھے ویسے ہی اٹھیں گے،بعد میں سب کو سینگ ملیں گے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۱۴؎ عربی میں گائے بھینس کے کھرکو ظلف کہتے ہیں،جمع اظلاف۔اور گھوڑے کی ٹاپ کو سُمیعنی بخیل کے یہ جانور اسے سینگ بھی گھونپیں گے اور کھروں سے بھی روندیں گے۔غرضکہ قربانی کے جانور پر سخی خود سوار ہوگا اور بے زکوتے جانوربخیل پر سواری کریں گے جیسے اچھے معدے والا جو بقدرضرورت کھانا کھائے تو وہ کھانے پر سوار ہوتاہے اور زیادہ کھا جانے والے پر کھانا سوار ہوجاتا ہے جسے یہ اٹھائے پھرتا ہے۔
۱۵؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی یعنی قیامت کے دن دوران حساب میں تمام مخلوق تو حساب و کتاب دیتی ہوگی مگر یہ بخیل اس عذاب میں مبتلا ہوگا۔
۱۶؎ خیال رہے کہ احناف کے نزدیک سائمہ گھوڑوں میں بھی زکوۃ فرض ہے،شوافع کے ہاں نہیں لہذا ہمارے ہاں اس جواب کا مقصد یہ ہے کہ گھوڑے میں علاوہ زکوۃ کے اوربھی پابندیاں ہیں جو آگے مذکور ہیں یعنی ان میں فقط زکوۃ کا سوال نہ کرو بلکہ غیر سائمہ یعنی گھر کھانے والا گھوڑا سواری کے لیے بھی ہو جس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی اس کا بھی یہ حکم ہے اور اگر گھوڑے میں زکو ۃ فرض نہ ہوتی تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خچر گدھوں کی طرح یہاں بھی فرمادیتے کہ ان کے متعلق مجھ پر کوئی خاص حکم نہیں آیا لہذا اس حدیث سے شوافع یہ دلیل نہیں پکڑسکتے کہ گھوڑے میں زکوۃ نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب بطریق حکیمانہ ہے جیسے صحابہ کرام نے سوال کیا تھا کہ ہم کیا خیرات کریں تو رب تعالٰی نے جواب دیا فلاں فلاں جگہ خیرات کرو۔(قرآن کریم)یعنی جواب سوال کے مطابق نہیں بلکہ سائل کے حال کے مطابق ہے۔
۱۷؎ یعنی پالتو گھوڑا جو تجارت کے لیے نہ ہو وہ کسی کے لیے ثواب کا باعث ہے اور کسی کے لیے نہ ثواب نہ عذاب یا ایک ہی گھوڑا ایک ہی شخص کے لیے اس کی نیت کے اعتبار سے کبھی ثواب ہے کبھی عذاب اور کبھی کچھ نہیں،جیسی نیت ویسا پھل یہ ہی حکم عمارتیں بنانے اعلیٰ لباس پہننے کا ہے۔
۱۸؎ یعنی جو گھوڑا اس نیت سے رکھے کہ لوگوں پر میری بڑائی ظاہر ہو،دوسرے مسلمان میرے سامنے ذلیل و خوار نظر آئیں اور اگر کسی مسلمان سے میری لڑائی ہوجائے تو اس گھوڑے پر سوار ہوکر اس کے خلاف جنگ کروں،چوری ڈکیتی اسی کے ذریعہ کروں جیساکہ عام نمبردار چوہدری اور چور،ڈاکو گھوڑے اسی لیے رکھتے ہیں ان کے لیے گھوڑا رکھنا سخت عذاب کا باعث ہے۔
۱۹؎ یہاں اﷲ کی راہ سے مراد جہاد نہیں یہ تو تیسری قسم میں آئے گا بلکہ اﷲ کی راہ سے مراد اپنی دنیاوی ضرورتیں پوری کرنا ہے کیونکہ مسلمان کا دنیا کمانا بھی سبیل اﷲ ہے یا تجارت کے لیے پالنا مراد ہے کہ تجارت بھی سبیل اللہ ہے دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔
۲۰؎ اس طرح کہ ضرورت کے وقت کسی مسلمان بھائی کو چند روز کے لیے عاریۃً گھوڑا دے دے جس سے وہ اپنا کام نکال لے یا کسی کی گھوڑی پر اپنا گھوڑا بلامعاوضہ چھوڑ دے کہ اس میں مسلمان بھائی کا کام نکالنا ہے۔خیال رہے کہ نر گھوڑے،بیل،بھینسے اور بکرے کا اجرت لے کر مادہ پر چھوڑنا منع ہے وہ اجرت ناجائز ہے جیساکہ آئندہ آئے گا۔
۲۱؎ گھوڑے کی پیٹھ کا حق تووہ تھا جو اوپر ذکر ہوا،اس کی گردن کا حق یہ ہے کہ اگر تجارت کے لیے ہو تو اس کی قیمت میں چالیسواں حصہ زکوۃ دے فی سینکڑہ ڈھائی روپے،یہ جملہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل ہے کہ سائمہ اور تجارتی گھوڑے میں زکوۃ ہے جسے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی گردن کا حق فرمایا،دوسرے حقوق تو اس کی پیٹھ کے حق میں آگئے تھے۔وہ جو حدیث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع