دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

باب من لایعود فی الصدقۃ

باب کون شخص صدقہ واپس نہ لے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  صدقہ واپس لینے کی چند صورتیں ہیں:دیکر واپس لے لینا،دیکر خرید لینا،دینے کے بعد بطور میراث پھر صدقہ کا لوٹ آنا،پہلی صورت بالکل ناجائز ہے اور تیسری صورت بالکل جائز،دوسری صورت میں کچھ تفصیل ہے۔خیال رہے کہ ہدیہ دے کر واپس لینا جائز ہے اگرچہ بہت برا۔اس کی بحث پہلے ہوچکی مگر صدقہ دیکر واپس لینا جائز ہی نہیں۔

1954 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كالعائد فِي قيئه»

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتےہیں کہ میں نے کسی کو اﷲ کی راہ میں گھوڑا دیا ۱؎ جس کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے بربادکردیا ۲؎  میں نے چاہا کہ گھوڑا خریدلوں میرا خیال تھا کہ سستا بیچ دے گا۳؎ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے فرمایا اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہیں ایک درہم میں دے دے ۴؎ کیونکہ اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو جو قے کرکے چاٹ لے،ایک اور روایت میں ہے صدقہ واپس نہ لو کہ اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والا ایسا ہے جیسے اپنی قے دوبارہ کھالینے والا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ بطور خیرات تاکہ اس پر جہاد وغیرہ کیا کرے،عاریۃً دینا مراد نہیں بلکہ مالک بنادینا مراد ہے۔

۲؎ اس طرح کہ اس کی خدمت کم کی جس سے وہ کمزور و دبلا ہوکر گویا برباد ہی ہوگیا۔

۳؎  یا اس لیے گھوڑا کمزور ہوچکا ہے جس سے اس کی قیمت گھٹ گئی یا اس لیے کہ میں اس کا محسن ہوں مجھے رعایت سے دے گا کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہے دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔

۴؎  اس جملہ کی بناء پر بعض علماء فرماتے ہیں کہ اپنے دیئے ہوئے صدقہ کا خریدنا حرام ہے مگر حق یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اور کراہت کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس موقعہ پر فقیر صدقہ دینے والے کی گزشتہ مہربانی کا خیال کرتے ہوئے اسے سستا دے دے گا اور یہ قیمت کی کمی صدقہ کی واپسی ہے مثلًا اگر سو روپیہ کا مال اس نے ۸۰ میں دے دیا تو گویا صدقہ دینے والے نے بیس روپیہ صدقہ کرکے واپس لے لئے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ملک بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔اس کی مثال بالکل یوں سمجھ لوکہ اگر تم نے اپنے پڑوسی فقیر کو صدقہ دیا اس نے اس مال کا کھانا پکاکر تمہاری دعوت کی یہ اگر اس مہربانی کے شکریہ میں ہو تو وہ دعوت ناجائز ہے اور اگر عام دعوت تھی جس میں اتفاقًا تمہیں بھی بلالیا گیا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن