دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

1773 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وجبينه وظهره كلما بردت أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَت لَا يفقد مِنْهَا فصيلا وَاحِدًا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أولاها رد عَلَيْهِ أخراها فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّار» قيل: يَا رَسُول الله فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ بَقْرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» . قِيلَ: يَا رَسُول الله فالخيل؟ قَالَ: " الْخَيل ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ. فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ. وَأَمَّا الَّتِي لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ. وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ الله لأهل الْإِسْلَام فِي مرج أَو رَوْضَة فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وأوراثها حَسَنَاتٍ وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ؟ قَالَ: " مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) الزلزلة. رَوَاهُ مُسلم

 

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی سونے چاندی والا نہیں جو اس کا حق(زکوۃ)ادا نہ کرے  ۱؎  مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے لیے آگ کے پتر ے بنائے جائیں گے پھر ان پر دوزخ کی آگ میں دھونکا جائے گا۲؎ جس سے اس کے پہلو پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی۳؎  جب بھی لائے جائیں گے تو لوٹائے جائیں گے۴؎ یہ دن بھر ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے حتی کہ بندوں میں فیصلہ کردیا جائے۵؎ تو یہ جنت یا دوزخ کا اپنا راستہ دیکھے۶؎عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تو اونٹ۷؎ فرمایا ایسا کوئی اونٹ والا نہیں جو ان کا حق ادا نہ کرے اور ان کا حق انہیں دوھنا بھی ہے انہیں گھاٹ پر لانے کے دن۸؎  مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ ان اونٹوں کے سامنے کھلے میدان میں اوندھا ڈالا جائے گا جن میں سے ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا یہ اونٹ اسے اپنے سم سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے ۹؎  جب اس پر پہلا اونٹ گزرے گا تو پچھلا اونٹ واپس ہوگا۱۰؎ یہ اس دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے حتی کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے تو یہ اپنا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھے عرض کیا گیا یارسول اﷲ پھر گائے بکریاں ۱۱؎ فرمایا ایسا کوئی گائے اوربکریاں والا نہیں جو ان کا حق(زکوۃ)نہ دیتا ہو۱۲؎  مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو ان کے سامنے کھلے میدان میں الٹا ڈالا جائے گا جن میں سے کوئی جانور کم نہ ہوگا ان میں نہ تو کوئی ٹیڑھے سینگ والا ہو نہ نبڈا ۱۳؎  یہ اسے اپنے سینگوں سے گھونپیں اور کھروں سے روندیں گے۱۴؎ جب بھی پہلاگزرے گا تو پچھلا واپس ہوگا یہ اس دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے حتی کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۱۵؎  تو یہ اپنا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھے عرض کیا گیا یارسول اﷲ تو گھوڑا فرمایا کہ گھوڑے تین طرح کے ہیں۱۶؎ ایک کے لیے گھوڑا گناہ ہے دوسرے کے لیے آڑ تیسرے کے لیے ثواب۱۷؎ جس کے لیے گھوڑا گناہ ہے وہ تو وہ شخص جو دکھلاوے شیخی اور مسلمانوں کی عداوت کے لیے گھوڑا باندھے اس کے لیے گناہ ۱۸؎  اور جس کے لیے گھوڑا پردہ ہے وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں مسلمانوں کے لیے گھوڑا باندھے ۱۹؎ پھر اس کی پیٹھ میں اللہ کا حق نہ بھولے۲۰؎  نہ ان کی گردنوں میں ۲۱؎  وہ گھوڑے اس کا پردہ ہیں۲۲؎  لیکن وہ گھوڑے جو اس کے لیے ثواب ہیں وہ شخص ہے جو اﷲ کی راہ میں مسلمانوں کے لیےکسی چراگاہ یا باغ میں باندھے۲۳؎ تو وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں کچھ نہیں کھاتے مگر جس قدر کھاتے ہیں اسی قدر اس کے حق میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کے لید و پیشاب کے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں۲۴؎  اور ایسا نہیں ہوتا کہ وہ گھوڑے اپنی رسی توڑ کر ایک دو ٹیلوں پر چڑھ جائیں مگر اﷲ ان کے نشان قدم اور لید کی بقدر نیکیاں لکھتا ہے ۲۵؎ اور ان کا مالک انہیں لے کرکسی نہر پر نہیں گزرتا جس سے وہ کچھ پی لیں حالانکہ مالک پلانے کا ارادہ بھی نہ کرتا ہو مگر اﷲ ان کے پینے کی بقدر نیکیاں لکھتا ہے ۲۶؎ عرض کیا گیا یارسول اللہ تو گدھے فرمایا گدھوں کے متعلق اس جامع آیت کے سوا کچھ حکم نازل نہ ہوا جو ذرہ بھر نیکی کریگا اسے دیکھے گا اور جو ذرہ بھر برائی کریگا وہ دیکھے گا۔(مسلم)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ حق سے مراد زکوۃ مفروضہ ہےکیونکہ فطرہ،قربانی یا حقوق العباد ادا کرنے پر وہ وعید نہیں جو یہاں مذکور ہے۔

۲؎ یعنی اس کا سونا چاندی اوّلًا سخت گرم پتر بنائے جائیں گے جو گرمی کی وجہ سے گویا آگ ہی ہوں گے پھر ان گرم پتروں کو اوربھی گرم کرنے کے لیے دوزخ کی آگ میں رکھ کر دھونکا جائے گا اس کی تشریح قرآن کریم میں یوں ہے"یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ"لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آگ کے پترے نہیں ہوتے،نیز آگ کے پتروں کو پھر آگ میں دھونکنا سمجھ میں نہیں آتا۔

۳؎  چونکہ یہ بخیل فقراء سے منہ موڑ لیتا تھا انہیں دیکھ کر پہلو پھیرکر چل دیتا تھا اس لیے ان دونوں مقام ہی پر داغ لگائے جائیں گے جیسے چور کے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں کہ اس نے ان سے ہی چوری کی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن