دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

1938 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ کونسا صدقہ بہتر ہے فرمایا غریب آدمی کی مشقت ۱؎ اور ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی غریب آدمی محنت مزدوری کرے پھر اس میں سے خیرات بھی کرے اس کا بڑا درجہ ہے۔خیال رہے کہ بعض لحاظ سے غنی کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ توکل میں کامل نہ ہو اور بعض لحاظ سے فقیر کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ اس کے گھر والے صبروتوکل میں کامل ہوں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ صدقہ غنٰے بہتر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہاتھ کا فقیر دل کا غنی تھوڑی سی خیرات کرے تو ہاتھ کے غنی کی بہت سی خیرات سے افضل ہے لہذا وہاں غنی والی حدیث میں دل کی غنا مراد ہوسکتی ہے تب بھی احادیث میں تعارض نہیں۔

۲؎ یعنی کوئی شخص اپنے بال بچوں کو بھوکا رکھ کر خیرات نہ کرے پہلے ان کا پیٹ بھرو،تن ڈھکو،پھر خیرات کرو۔یہ مطلب نہیں کہ اپنی زکوۃ پہلے اپنے بال بچوں کو دو،پھر دوسروں کوکیونکہ اپنی زکوۃ ا اپنی اولا اور بیوی کو نہیں لگتی۔

1939 -[11]

وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ:صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ".رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہ ہی صدقہ اپنے قرابت دار پر دو صدقے ہیں ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ پہلے مسکین سے مراد اجنبی مسکین ہے یعنی اجنبی مسکین کو خیرات دینے میں صرف خیرات کا ثواب ہے اور اپنے عزیز مسکین کو خیرات دینے میں خیرات کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی۔صلہ رحمی یعنی اہل قرابت کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے،بہترین عبادت،پھر جس قدر رشتہ قوی اسی قدر اس کے ساتھ سلوک کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے رب تعالٰی نے اہل قرابت کا ذکر پہلے فرمایا کہ ارشاد فرمایا:"فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیۡنَ وَابْنَ السَّبِیۡلِ

1940 -[12]

وَعَن أَي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِنْدِي دِينَار فَقَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ» . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْت أعلم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میرے پاس ایک اشرفی ہے ۱؎ فرمایا اسے اپنے پر خرچ کر۲؎ عرض کیا میرے پاس دوسری بھی ہے فرمایا اسے اپنے بچوں پر خرچ کر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا اسے اپنے گھر والوں ۳؎ پر خرچ کر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا اسے اپنے خادم پر خرچ کر ۴؎ عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا تم جانو۵؎ (ابوداؤد،نسائی)

۱؎ یہاں سائل کا سوال بطور مثال تھا یعنی اگر میرے پاس ایک ہی اشرفی ہو جو ایک ہی شخص کو کافی ہو تو میں کس پر خرچ کروں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سائل نے جھوٹ بولا کہ اس کے پاس تھیں تو زیادہ اشرفیاں اور کہا ایک اشرفی ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن