دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

باب افضل الصدقۃ

باب بہترین صدقہ ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یوں تو ہر صدقہ بہرحال اچھا ہے مگر کبھی بعض عارضی حالات میں بہت اچھا ہوجاتاہے خواہ خیرات دینے والے کی ہو یا لینے والے کی ہو یا مال کی جیسے تندرستی کی خیرات مرتے وقت کی خیرات سے بہتر ہے یوں ہی متقی پرہیزگار عیالدار کو خیرات دینا فاسق کو دینے سے بہتر،اسی طرح جس چیز کی اس وقت تنگی ہو اس کا صدقہ افضل ہے جہاں پانی کی تنگی ہو وہاں کنواں کھدوانا بہت باعث ثواب ہے۔اس باب میں ان تمام حالات کا ذکر ہوگا جن سے صدقہ بہت بہتر ہوجاتاہے۔

1929 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وأبدأ بِمن تعول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ وَمُسلم عَن حَكِيم وَحده

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو قوت غنا سے ہو ۱؎ اور ان سے ابتداءکرو جن کی تم پرورش کرتے ہو۲؎ (بخاری) اور مسلم نے صرف حکیم سے روایت کی۔

۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں لفظ ظہر زائد ہے جس کے کوئی معنے نہیں مگر حق یہ ہے کہ زائد نہیں بلکہ بمعنی قوت و غلبہ ہے یعنی صدقہ بہتر وہ ہے کہ صدقہ دینے والا صدقہ دے کر خود بھی خوب غنی رہے یا تو مال کا غنی رہے یعنی سب خیرات نہ کردے کہ کل کو خود اور اس کے بال بچے بھیک مانگتے پھریں۔غرضکہ صدقہ دے کر خود فقیر بھکاری نہ بن جاؤ یا دل کا غنی کہ سب کچھ دے کر بھی لوگوں سے بے نیاز رہے جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے سب کچھ راہ خدا میں دے دیا کہ گھر میں کچھ نہ رکھا لہذا یہ حدیث صدیق اکبر کے اس عمل کے خلاف نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عوام مسلمین اصلی ضرورت سے زیادہ مال خیرات کریں، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ قُلِ الْعَفْوَ"عفو سے مراد ضرورت سے بچا مال اور خاص متوکلین کل مال بھی لٹا سکتے ہیں،یہ حدیث دونوں کو شامل ہے۔

۲؎ یعنی اپنا مال پہلے اپنے پر،پھر اپنے بال بچوں پر،پھر غریب قرابت والوں پر،پھر دوسروں پر خرچ کرو،چونکہ مؤمن کو ان سب خرچوں میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خرچوں کو صدقہ میں شامل فرمایا۔سبحان اﷲ! کیسی پیاری ترتیب ہے اور کیسی نفیس تعلیم اہل قرابت کو صدقہ دینے میں صدقہ کا بھی ثواب ہے اور قرابت ادا کرنے کا بھی جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔

1930 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَت لَهُ صَدَقَة»

روایت ہے حضرت ابومسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کی طلب میں خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن