30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1920 -[33] وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ ك سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حفظ من الله مادام عَلَيْهِ مِنْهُ خرقَة».رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا نہیں پہناتا مگر جب تک اس کے بدن پر اس کا ایک چیتھڑا بھی رہے یہ اﷲ کی حفاظت میں رہتا ہے ۱؎(احمد،ترمذی) |
۱؎ یعنی جب تک فقیر کے جسم پر اس کپڑے کی ایک چیز باقی ہے تب تک اﷲ تعالٰی پہنانے والے کو آفات دنیاوی سے محفوظ رکھتا ہے کیونکہ صدقہ آفتوں سے بچانے میں بے مثال ہے یا مطلب یہ ہے کہ تب تک اﷲ اس کی عیب پوشی فرماتا رہتا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے تو اﷲ اس کی عیب پوشی کرتا ہے،یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے۔یہ تو کپڑا پہنانے کا دنیاوی فائدہ ہوا اُخروی فائدہ تو ہمارے خیال سے وراء ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قدر صدقہ کی بقا اسی قدر اس کے فائدے کی بقا لہذا صدقہ جاریہ بہت ہی اعلیٰ ہے۔
|
1921 -[34] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَرَجُلٌ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا أُرَاهُ قَالَ: مِنْ شِمَالِهِ وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ أَحَدُ رُوَاتِهِ أَبُو بكر بن عَيَّاش كثير الْغَلَط |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے وہ اسے مرفوع کرتے ہیں فرمایا تین شخصوں سے اﷲ محبت کرتا ہے ۱؎ ایک وہ جو رات کو اٹھ کر قرآن پڑھے ۲؎ دوسرا وہ جو اپنے داہنے ہاتھ سے خیرات کرے اور اسے چھپائے مجھے خیال ہے کہ فرمایا اپنے بائیں ہاتھ سے۳؎ تیسرا وہ جوکسی لشکر میں تھا کہ اس کے ساتھی بھاگ گئے تو یہ دشمن کے مقابل رہا ۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غیرمحفوظ ہے اس کے ایک راوی ابوبکر ابن عیاش ہیں جو بہت غلطیاں کرتے ہیں ۵؎ |
۱؎ خاص نوعیت کی محبت ورنہ عمومی محبت تو اﷲ تعالٰی ہر مؤمن سے کرتا ہے،بعض کا مقابل صحابہ کرام سے اور قسم کی محبت فرماتاہے اور مختلف قسم کے شخصوں سے اور اقسام کی محبت،یہ ہی حال رضائے الٰہی کا ہے۔رب تعالٰی کی محبت خاص کی یہ علامت ہے کہ اسے نیک اعمال کی توفیق بخشتا ہے اور گناہوں سے بچاتا ہے اﷲ ہم سب کو نصیب کرے۔
۲؎ یا نماز تہجد میں یا ویسے ہی علاوہ نماز کے۔معلوم ہوا کہ آخر رات کی تلاوت ونماز بہت اعلیٰ ہے کہ اس میں ریاء کا شائبہ نہیں۔اس میں وہ حفظ قرآن والے طلباء بھی شامل ہیں جو آخر شب میں قرآن پاک یاد کریں۔
۳؎ یہ چھپانے کے مبالغہ کے لیے ہے یعنی وہ اپنے زن و فرزند اور خاص دوستوں سے بھی اس صدقہ کا ذکر نہیں کرتا تاکہ ریاء کا شائبہ بھی نہ پیدا ہوجائے۔خیال رہے کہ صدقہ فرض اکثر ظاہر کرکے دینا افضل ہے تاکہ فسق کی تہمت سے بچے اور صدقہ نفل اکثر چھپا کردینا بہتر،ہاں چندہ وغیرہ پر صدقہ کا اعلان تاکہ دوسروں کو بھی دینے کی رغبت ہو بہتر ہے،مختلف حالات کے مختلف احکام ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ وَ اِن تُخْفُوۡہَا وَتُؤْتُوۡہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۴؎ اپنی فوج کے بھاگ جانے پر اور خود اکیلے رہ جانے پر دشمن کے مقابل ڈٹ جاتا گویا اپنی موت کو دعوت دینا ہے مگر چونکہ کلمۃ اﷲ بلند کرنے کے لیے مرجانا بھی عبادت ہے اس لیے یہ غازی اﷲ کا بڑا محبوب بنا اور اس پر خودکشی کا الزام نہ آیا اگر بحالت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع