دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

1911 -[24]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيك صَدَقَة وأمرك بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَة وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ وَنَصْرُكَ الرَّجُلَ الرَّدِيءَ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَ وَالْعَظْمَ عَن الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے ۱؎ اور بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روک دینا صدقہ ہے اور تیرا کسی کو بہک جانے والی زمین میں راہ دکھادینا تیرے لیے صدقہ ہے ۲؎ اور تیرا کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مددکردینا تیرے لیے صدقہ ہے ۳؎  اور تیرا راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے ۴؎ صدقہ ہے اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دیناتیرے لیے صدقہ ہے ۵؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎  خوشی کا  مسکرانا جس سے سامنے والا سمجھے کہ میرے آنے سے اسے خوشی ہوئی اس سے وہ بھی خوش ہو جائے،تمسخر کا مسکرانا مراد نہیں جس سے آنے والے کو تکلیف ہو کہ یہ تو گناہ ہے۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیا رب تعالٰی کی مہربانیاں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس امت کو ملیں وہ معمولی کام جن میں نہ خرچ ہو نہ تکلیف ثواب کا باعث بن گئے،کسی کو راستہ بتادینا یا مسئلہ سمجھا دینا بھی ثواب کا باعث ہوگیا۔

۳؎  یا اس طرح کہ اس کی انگلی پکڑ کر جہاں جانا چاہتا ہے وہاں پہنچا دے یا اس طرح کہ اس کا کام کاج کردے سب میں ثواب ہے کہ اندھوں اور کمزور نظر والوں کی خدمت نعمتِ آنکھ کا شکریہ ہے،ہر نعمت کا شکر جداگانہ ہے اور شکر پر زیادتی نعمت کا وعدہ ہے"لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ

۴؎  کہ اس سے لوگ تکلیف سے بچیں گے اورتمہیں ثواب ملے گا۔معلوم ہوا کہ جیسے مسلمان کو نفع پہنچانا ثواب ہے ایسے ہی انہیں تکلیف سے بچانا بھی ثواب ہے،کسی بھلے آدمی کو بدمعاش کی شر سے بچالینا ثواب ہے،اگر کوئی شریف النفس آدمی بے خبری میں خبیث النفس سے رشتہ کرنا چاہتا ہو اس سے بچالینا بھی ثواب ہے۔

۵؎  جب اپنے ڈول سے دوسرے کے ڈول میں پانی ڈال دینا ثواب ہوا تو جس کے پاس ڈول یا رسی ہی نہ ہو اسے پانی دینا تو بہت ہی ثواب ہوگا۔

1912 -[25]

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ» . فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ: هَذِهِ لأم سعد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ام سعد وفات پا گئیں تو اب کون سا صدقہ بہتر ہے ۱؎ فرمایا پانی ۲؎ لہذا سعد نے کنواں کھدوایا اور فرمایا یہ کنواں ام سعد کا ہے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎  یعنی میں کونسا صدقہ دے کر ان کی روح کو اس کا ثواب بخشوں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعد وفات میت کو نیک اعمال خصوصًا مالی صدقہ کا ثواب بخشنا سنت ہے،قرآن کریم میں جو فرمایا گیا:"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"یا فرمایا گیا"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"۔جن سے معلوم ہوا کہ انسان کو صرف اپنی کی ہوئی نیکیاں فائدہ مند ہیں وہاں بدنی فرائض مراد ہیں اسی لیے وہاں کسبت یا سعٰی ارشاد ہوا یعنی کوئی کسی کی طرف سے فرض نمازیں ادا نہیں کرسکتا ثواب ہر عمل کا بخش سکتے ہیں لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں،قرآن کریم سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ نیکوں کی برکت سے بُروں کی آفتیں ٹل جاتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صٰلِحًا

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن