30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1909 -[22] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ صدقہ رب تعالٰی کے غضب کو بجھاتا ہے ۱؎ اور بری موت کو دفع کرتا ہے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی خیرات کرنے والے سخی کی زندگی بھی اچھی ہوتی ہے کہ اولًا اس پر دنیوی مصیبتیں آتی نہیں اور اگر امتحانًا آ بھی جائیں تو رب تعالٰی کی طرف سے اسے سکون قلبی نصیب ہوتا ہے جس سے وہ صبر کرکے ثواب کمالیتا ہے۔غرضکہ اس کے لیے مصیبت معصیت لے کر نہیں آتی مغفرت لے کر آتی ہے،معصیت والی مصیبت خدا تعالٰی کا غضب ہے اور مغفرت والی مصیبت اللہ کی رحمت لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سخیوں پر مصیبتیں آجاتی ہیں عثمان غنی جیسے سخی بڑی بے دردی سے شہید کئے گئے۔
۲؎ مَیْتَۃٌ مَوْتٌ سے بنا بیان نوعیت کے لیے اسے بروزن فعلۃ لائے تو میم کے کسرہ کی وجہ واؤ سے بدل گیا،بری موت سے مراد خرابی خاتمہ ہے یا غفلت کی اچانک موت یا موت کے وقت ایسی علامت کا ظہور ہے جو بعد موت بدنامی کا باعث ہو اور ایسی سخت بیماری ہے جو میت کے دل میں گھبراہٹ پیدا کرکے ذکر اﷲ سے غافل کردے،غرضکہ سخی بندہ ان تمام برائیوں سے محفوظ رہے گا، میرے پاک نبی سچے،ان کا رب سچا،اﷲ تعالٰی ان کے طفیل ہم سب کو سخاوت کی توفیق دے اور یہ نعمتیں عطا فرمائے۔
|
1910 -[23] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بھلائی صدقہ ہے اور بھلائی سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے ملے اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں ڈول دے ۱؎(ترمذی) |
۱؎ شروع باب میں صدقہ کے معنے عرض کئے جاچکے ہیں۔صدقہ حقیقی مال سے ہوتا ہے اور صدقہ حکمی اعمال سے بھی،مسلمان بھائی سے محبت سے ملنا اس کی خوشنودی دل کا ذریعہ ہے اور مسلمان کو خوش کرنا ثواب لہذا یہ عمل صدقہ،نیز کنوئیں پر جو لوگ پانی لینے کے لیے جمع ہوں ان کے برتوں میں پانی ڈال دینا بھی ان کی راحت اور خوشی کا ذریعہ ہے لہذا یہ بھی صدقہ،پانی ڈالنا بطور مثال بیان ہوا۔مقصد یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے ساتھ معمولی سی بھلائی کرنا بھی ثواب ہے۔
|
1911 -[24] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيك صَدَقَة وأمرك بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَة وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ وَنَصْرُكَ الرَّجُلَ الرَّدِيءَ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَ وَالْعَظْمَ عَن الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے ۱؎ اور بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روک دینا صدقہ ہے اور تیرا کسی کو بہک جانے والی زمین میں راہ دکھادینا تیرے لیے صدقہ ہے ۲؎ اور تیرا کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مددکردینا تیرے لیے صدقہ ہے ۳؎ اور تیرا راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے ۴؎ صدقہ ہے اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دیناتیرے لیے صدقہ ہے ۵؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع