30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1900 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَت لَهُ صَدَقَة» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی باغ لگائے یا کھیت بوئے پھر اس سے آدمی یا چڑیاں یا جانور کچھ کھالیں مگر اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ عرب میں دستور تھا کہ باغ والے مسافروں کو دو ایک پھل توڑ لینے سے منع نہ کرتے جیسے ہمارے ہاں بھی چنے کا ساگ کاٹنے سے لوگ منع نہیں کرتے،مسافر بھی اس دستور سے واقف تھے وہ بھی چوری کی نیت سے نہیں بلکہ عرفی اجازت کی بنا پر دو چار دانے منہ میں ڈال لیتے تھے،نیز کبھی جانور کھیت پر سے گزرتے ہوئے سبزے میں ایک آدھ منہ مار دیتے ہیں سرکار نے ان سب کو مالک کے لیے صدقہ قرار دیا اس کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی کہ کبھی بغیر نیت بھی ثواب مل جاتاہے۔
|
1901 -[14] وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ: «وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَة» |
اور مسلم کی روایت میں حضرت جابر سے یوں ہے کہ جو اس سے چوری ہوجائے وہ بھی صدقہ ہے ۱؎ |
۱؎ صبرکرنے اور اس نقصان کو برداشت کرنے پر ضرور ثواب ملے گا جیسے کانٹا لگ جانے پر ثواب ملتا ہے۔
|
1902 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ» . قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كبد رطبَة أجر» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس زانیہ عورت کی مغفرت ہو گئی ۱؎ جو ایک کتے پرگزری کہ ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے قتل کردیتی اس نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا اس طرح پانی نکالا ۲؎ اس وجہ سے بخش دی گئی عرض کیا گیا کہ کیا ہم کو جانوروں میں بھی ثواب ہے فرمایا ہر تر کلیجے والے میں ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ مُوْمِسَہْ وَمْسٌ سے بنا،بمعنی رگڑ،اس کا مصدر ایماس ہے،بمعنی زنا کرنا۔ظاہر یہ ہے کہ اس کے سارے گناہ بخش دیئے گئے تھے جیسے کہ غفر کے اطلاق سے معلوم ہوا۔
۲؎ یعنی اس کے پاس ڈول رسی تھے نہیں تو اس نے اپنے دوپٹہ کو رسی بنایا اور موزے کو ڈول کہ موزہ میں پانی بھر کر کتے کے منہ میں ڈال دیا جس سے اس کی آنکھ کھل گئیں اور وہ چلا گیا۔
۳؎ تر کلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اس سے موذی جانور مستثنٰی ہیں لہذا سانپ،بچھو،شیر وغیرہ کو مار دینا ثواب ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ گناہ کبیرہ بغیر توبہ معاف ہوسکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ کبھی معمولی نیکی بڑے سے بڑے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ بعض صوفیاء اپنے ہاں انسانوں کے لنگر کے ساتھ جانوروں کے دانے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ تمہارا کھانا متقی ہی کھائیں اس سے دعوت کا کھانا مراد ہے نہ کہ حاجت کا کھانا لہذا احادیث متعارض نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع