30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ سبحان اﷲ! کیا ہمت افزاء حدیث ہے یعنی صدقہ صرف مال ہی سے نہیں ہوتا بلکہ ہر معمولی نیکی اگر اخلاص سے کی جائے تو اس پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے حتی کہ مسلمان بھائی سے میٹھی اور نرم باتیں کرنا بھی صدقہ ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔اب کوئی فقیر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صدقہ پر قادر نہیں۔
۲؎ اس طرح کہ بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث نقل کی ہے اور مسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے لہذا راوی کے نام میں ہر کتاب مفرد ہے اور متن حدیث میں دونوں متفق۔
|
1894 -[7] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طليق» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھلائی کو حقیر نہ جانو اگرچہ یہ ہو کہ اپنے بھائی سے کشادہ پیشانی سے ملے ۱؎(مسلم) |
۱؎ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حقیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچالیتا ہے اور کوئی گناہ حقیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر پھونک دیتی ہے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔مسلمان بھائی سے خوش ہوکر ملنا اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے اور مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔
|
1895 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: «فَلْيَعْمَلْ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعَ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقَ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: «فيعين ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ».قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ؟ قَالَ:«فيأمر بِالْخَيرِ».قَالُوا: فَإِن لمي فعل؟ قَالَ: «فَيمسك عَن الشَّرّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَة» |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر صدقہ ہے ۱؎ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر نہ پائے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرے خود نفع اٹھائے اور خیرات کرے ۲؎ عرض کیا اگر یہ بھی نہ کرسکے یا نہ کرے فرمایا تو کسی مظلوم حاجت مند کی مدد کرے ۳؎ بولے اگر یہ بھی نہ کرے فرمایا تو اچھی بات کا حکم کرے۴؎ بولے اگر یہ بھی نہ کرے تو فرمایا کہ برائی سے بچے کہ اس کے لیے یہ ہی صدقہ ہے ۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہاں عَلیٰ وجوب کے لیے نہیں بلکہ ترغیب کے لیے ہے یعنی مسلمان کو چاہیئے کہ شکر الٰہی کے لیے ان نفلی نیکیوں کو بھی اپنے پر لازم سمجھے اور روزانہ ان پر عمل کی کوشش کرے۔
۲؎ صحابہ کرام یہاں صدقہ سے مالی خیرات سمجھے تھے اس لیے انہیں یہ اشکال پیش آیا کہ بعض مسلمان مسکین مفلوک الحال ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے کھانے کو نہیں ہوتا وہ صدقہ کہاں سے کریں۔سرکار کے اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کمانا بھی عبادت ہے کہ اس کی برکت سے انسان ہزار ہا گناہوں سے بچ جاتا ہے جیسے بھیک،چوری وغیرہ،نیز نکما آدمی اپنا وقت گناہوں میں خرچ کرنے لگتا ہے نفس کو حلال کاموں میں لگائے رہو تاکہ تمہیں حرام میں نہ پھنسادے۔
۳؎ ہاتھ پاؤں کی مدد جیسے بھولے کو راستہ بتادینا،پردہ نشین بیوگان کا باہر والا کام کردینا اس میں بھی ثواب ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع