30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابراہیم علیہ السلام نے تو فرزند کے گلے پر چھری چلادی،حضرت ادھم نے اپنے بیٹے ابراہیم کے لیے دعا کی خدایا اسے موت دیدے کہ اسے چومنے کی وجہ سے میں ایک آن تجھ سے غافل ہوگیا۔
۵؎ اگر یہ وہی واقعہ ہے تب تو یہ روایت اس کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ سونا آپ کے اپنے خرچ کا نہ تھا زکوۃ کا تھا اور اگر دوسرا واقعہ ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کا مصرف پر جلد پہنچنا ضروری ہے۔
|
1884 -[26] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي مَرضه سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا: «مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ أَوِ السَّبْعَة؟» قلت: لَا وَالله لقد كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ فَدَعَا بِهَا ثُمَّ وَضَعَهَا فِي كَفِّهِ فَقَالَ:«مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟».رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ فرماتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مرض میں آپ کے میرے پاس چھ یا سات دینار تھے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دیا لیکن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے مجھے اس کی فرصت نہ دی پھرحضور نے اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کہ ان چھ سات دینار کا تم نے کیا کیا اس نے عرض کیا اللہ کی قسم آپ کی بیماری نے مشغول رکھا آپ نے وہ منگایا اسے اپنے ہاتھ پر رکھا فرمایا کہ اﷲ کے نبی کا خیال ہے اﷲ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہو۲؎(احمد) |
۱؎ آپ کے اپنی ملکیت کے جیساکہ لام سےمعلوم ہورہا ہے کہ صدقہ کرنے کی نیت سے رکھے ہوں یا خرچ کے ارادہ سے۔
۲؎ یعنی حضور سید الانبیاء کی شان عالی کے یہ لائق نہیں کہ گھر میں کچھ مملوک مال چھوڑ کر وفات پائیں دل میں اﷲ کا نور اور گھر میں اﷲ کا نام کافی ہے۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ صدیق اکبر نے حضور علیہ السلام کی میراث تقسیم نہ کی ظلم کیا،حضور علیہ السلام نے مال چھوڑا ہی کیا تھا جو رہنے کامکان تھا وہ بھی وقف ہوگیا،اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف بنادی گئی۔خیال رہے کہ یہ واقعہ حدیث ہے سنت نہیں ۔ سنت وہ واقعات ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعد فتح خیبر ازواج مطہرات کو ایک سال کا خرچ دے دیا کرتے تھے یا بعض صحابہ کو سب کچھ بلکہ آدھے مال کی خیرات سے منع فرمایا تہائی خیرات کی اجازت دی اور فرمایا اس سے کم خیرات کرنا بہتر ہے اپنے وارثوں کو غنی کرکے جاؤ۔شعر
موسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان درد انا ں دیگر اند
معلوم ہوا کہ حدیث و سنت میں بڑا فرق ہے۔
|
1885 -[27] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِغَدٍ. فَقَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهُ غَدًا بخارا فِي نَار جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ من ذِي الْعَرْش إقلالا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا فرمایا اے بلال یہ کیا عرض کیا کہ اسے میں نے کل کے لیے جمع کیا ہے فرمایا کیا تمہیں اس سے خوف نہیں کہ تم کل اس کے سبب دوزخ کی آگ میں بخار قیامت کے دن دیکھو ۱؎ اے بلال خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خطرہ نہ کرو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع