دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

1882 -[24]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُثْمَانَ فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا كَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ. فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقِيَّ» . أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عُثْمَانُ أَسَمِعْتَهُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: نعم. رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو ذر سے انہوں نے حضرت عثمان کی خدمت میں حاضری کی اجازت مانگی مل گئی ابو ذر کے ہاتھ میں ان کی لاٹھی تھی ۱؎ حضرت عثمان نے کہا اے کعب عبدالرحمن کی وفات ہوئی انہوں نے بہت مال چھوڑا ۲؎  اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے فرمایا کہ اگر اس میں اﷲ کا حق ادا کرتے ہوں تو کوئی حرج نہیں۳؎ تب ابو ذر نے لاٹھی اٹھاکر کعب کو ماری۴؎ اور فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اس پہاڑ برابر سونا ہو جسے میں خیرات کروں اور وہ قبول ہوجائے کہ اسے چھ اوقیہ اپنے پیچھے چھوڑ دوں ۵؎  اے عثمان تمہیں اﷲ کی قسم کیا تم نے حضور کو یہ کہتے سنا(تین بار فرمایا)آپ نے کہا ہاں ۶؎(احمد)

۱؎  کندھوں تک دراز لاٹھی تھی جو ان کے ساتھ رہتی تھی۔لاٹھی ساتھ رکھنا سنت ہے اور اس کے بہت فوائد ہیں۔

۲؎  یعنی عثمان غنی نے ابو ذرغفاری کی موجودگی میں کعب احبار سے مسئلہ پوچھا کہ عبدالرحمن ابن عوف بہت مال چھوڑ کر وفات پاگئے ہیں تمہارا کیاخیال ہے آیا مال جمع کرنا اور بال بچوں کے لیے چھوڑ جانا جائز ہے یا نہیں۔مرقات میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے دو لاکھ دینار چھوڑے تھے۔خیال رہے کہ حضرت ابوذر غفاری زاہد ترین صحابہ تھے ان کا خیال تھا کہ۔شعر

تج ڈال مال و دھن کو کوڑی نہ رکھ کفن کو              جس نے دیا ہے تن کو دے گا وہی کفن کو

زہدوترک دنیا کی احادیث پرسختی سے عامل تھے اس لیے ان کی موجودگی میں یہ سوال وجواب ہوئے تاکہ وہ حکم شرعی اور زہد میں نیز تقویٰ و فتویٰ میں فرق کرلیں۔

۳؎  یعنی مال جمع رکھنا بعد وفات چھوڑ جانا حلال ہے جب کہ اس سے زکوۃ،فطرہ،قربانی،حقوق العباد ادا کئے جاتے رہے ہوں۔یہ کنز میں داخل نہیں جس کی قرآن کریم میں برائی آئی ہے۔

۴؎ یہ مارنا بحالت جذب تھا،آپ اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے،چونکہ ابو ذر بزرگ ترین صحابی تھے،تمام صحابہ آپ کا بہت احترام کرتے ان کی ناراضی یا مار پر ناراض نہ ہوتے تھےجیسے آج بھی سعادت مند جوان محلہ کے بزرگوں کی سختی پر ناراض نہیں ہوتے اس لیے خلیفۃ المؤمنین نے ان سے قصاص کے لیے نہ کہا نہ حضرت کعب نے کچھ برا منایا۔ہوسکتا ہے کہ آپ کی یہ مارتادیب و سرزنش کے لیے ہو کہ تم تو کہہ رہے ہو کہ مال جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں حالانکہ امیرسخی بھی مسکینوں سے پانچ سو برس بعد جنت میں جائیں گے،حساب میں دیر لگے گی۔یہاں مرقات میں ہے کہ بعد میں حضرت عثمان نے ابوذر غفاری کو مدینہ منورہ سے مقام ربزہ میں بھیج دیا تھا آپ تا وفات وہاں ہی رہے کیونکہ آپ کی طبیعت بہت جلالی تھی۔

۵؎  خلاصہ جواب یہ ہے کہ اے کعب!تم تو کہتے ہو مال جمع کرنے میں حرج نہیں جب کہ اس سے فرائض ادا کردیئے جائیں مگر میں نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا مال سارا کا سارا خیرات کردینا کچھ باقی نہ رکھنا سنت ہے اور جمع کرنا خلاف سنت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن