30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس طرح کہ ہر رونگٹے کی جڑ سے پسینہ کے قطروں کی طرح ظاہر ہوئی،یہ واقعہ آدم علیہ السلام کے جنت میں جانے سے پہلے نعمان پہاڑ پر قریب عرفات شریف یا مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہوا،بعض نے فرمایا کہ جنت سے تشریف لانے کے بعد ہوا اور یہ روحیں سفید رنگ کی تھیں۔
۵؎ یعنی اپنی خوشی وارادے سے نیکیاں کریں گے،ایمان پر مریں گے،جنت میں جائیں گے۔لہذا وہ لوگ ان اعمال میں مجبور نہیں۔خیال رہے کہ یہاں جنت کسبی مراد ہے،وہبی،عطائی طور پر بغیر اعمال بھی جنت ملے گی،جیسے مسلمانوں کے چھوٹے بچے یا مرتے وقت ایمان قبول کرنے والا۔
۶؎ سیاہ رنگ والی یہ کفار کی روحیں تھیں۔
۷؎ اس طرح کہ کفر پر مریں گے زندگی خواہ کفر پر گزری ہو یا ایمان پر۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اور حاضرین فرشتوں کو تمام جنتی اور دوزخی دکھائے گئے،بتادیئے گئے،انہی کو بتانے کے لیے یہ واقعہ کیا گیا ہمارے حضور کا علم آدم علیہ السلام سے کہیں زیادہ ہے لہذا حضور بھی ہر ایک کا انجام اور سعادت شقاوت جانتے ہیں،علوم خمسہ رب نے آپ کو بخشے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کی پشت میں اپنی تمام اولاد کی روحیں اور ان کے اجزاءاصلیہ موجود تھے۔بعض روایات میں ہے کہ مؤمن وں کی روحیں سفید تھیں انبیاء کی روحیں نہایت چمکدار۔
۸؎ کیونکہ اگر ہم جنتیوں میں سے ہیں تو کچھ بھی کریں جنت ہی پائیں گے،جنتی دوزخی ہونا جبری چیزہوئی ناکہ اختیاری۔
۹؎ یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلیہ نہیں۔پہلے گزر چکا کہ بعض لوگ عمر بھر دوزخیوں کے کام کرتے ہیں،مرتے وقت نیک اعمال کرکے مرتے ہیں۔
۱۰؎ کام لینے کے معنی یہ ہیں کہ بندے کے دل کا رجحان برائیوں کی طرف ہوتا ہے جس سے وہ اپنی خوشی اور اختیار سے بدکاریاں کرتا ہے لہذا بندہ خلق میں مجبور ہے کسب میں مختار اورمستحق عذاب نار۔
۱۱؎ لہذا ہمیشہ نیکیاں کرنے کی کوشش کرو۔
|
96 -[18] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كِتَابَانِ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الكتابان فَقُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِهِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا فَقَالَ أَصْحَابُهُ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ فريق فِي الْجنَّة وفريق فِي السعير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح |
روایت ہے عبداﷲ بن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ دستِ اقدس میں دو کتابیں تھیں ۱؎ فرمایا کہ کیا جانتے ہو یہ کیا کتابیں ہیں۲؎ ہم نے عرض کیا یارسو ل اﷲ آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے ۳؎ تو داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں فرمایا کہ یہ کتاب رب العلمین کے پاس سے آئی ہے ۴؎ جس میں تمام جنتیوں کے نام اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کاٹوٹل لگادیا گیا ہے۵؎ لہذا ان میں کبھی زیادتی کمی نہیں ہوسکتی ۶؎ پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایاکہ یہ کتاب اﷲ رب العلمین کی طرف سے آئی ہے ۷؎ اس میں دوزخیوں اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کا ٹوٹل لگادیا گیااب ان میں کبھی زیادتی اور کمی نہیں ہوسکتی ۸؎ صحابہ نے عرض کیا عمل کا ہے میں رہا یارسول اﷲ اگر اس معاملہ سے فراغت ہوچکی۹؎ فرمایا سیدھے رہو قرب الٰہی حاصل کرو۱۰ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ؎ کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی بھی کام کرے اور یقینًادوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے کام پرہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی عمل کرے۔پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستِ مبارک سے اشارہ فرما کر انہیں جھاڑ دیا ۱۱؎ پھر فرمایا کہ تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ایک ٹولہ جنتی اور دوسرا ٹولہ دوزخی ہے۱۲؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع