30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
92 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيرْفَع» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْل والنهار» |
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کا دستِ کرم بھرا ہے ۱؎ جسے خرچ کم نہیں کرسکتا اس کی عطا پاشی دن رات جاری ہے ۲؎ غور تو کرو جب سے آسمان اور زمین بنا ہے تب سے کتنا خرچ فرمایا لیکن اس خرچ نے اس کے دستِ کرم میں کوئی کمی نہ کی اس کا عرش پانی پر تھا ۳؎ اس کے قبضہ میں ترازو ہے جسے بلندوپست فرماتا ہے۴؎ (مسلم وبخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اﷲ کا دستِ کرم بھرا ہوا ہے ابن نمیر نے مَلَأَ فرمایا اور فرمایا سحاء سے رات و دن کی کوئی چیز کم نہیں کرتی۔ |
۱؎ یعنی اﷲ بڑا غنی ہے اس کی تائید میں وہ آیت ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ "ورنہ اﷲ تعالٰی ہاتھ سے بھی پاک ہے اور اس کے بھرنے سے بھی۔
۲؎ اس کی مثال اس نے اپنی بعض مخلوق میں قائم فرمادی ہے سمندر کا پانی،سورج کا پانی،سورج کی روشنی،ہمارا علم خرچ کرنے سے نہیں گھٹتے،جنت کے رزق کا بھی یہی حال ہوگا۔پھر رب تعالٰی کے خزانوں کا کیا پوچھنا۔لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
۳؎ اس کی تفسیر پہلے گزرچکی کہ عرش و پانی کے درمیان کوئی آڑ نہ تھی۔
۴؎ یعنی لوگوں کا رزق اور ان کے اعمال اﷲ تعالٰی کے قبضہ میں ہیں جن میں زیادتی کمی فرماتا رہتا ہے یا قوموں کی تقادیر اس کے قبضہ میں ہیں کسی کو گراتا ہے کسی کو اٹھاتا ہے۔
|
93 -[15] وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَّارِيِّ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: «اللَّهُ أعلم بِمَا كَانُوا عاملين» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار کے بچوں کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ رب جانے وہ کیا اعمال کرتے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اگر وہ جوان ہو کر کافر ہوتے تو وہ جہنمی ہیں اور اگر مؤمن ہوتے تو جنتی ہیں۔خیال رہے کہ کفار کے فوت شدہ بچوں کے متعلق علماء کرام کے چند اقوال ہیں:(۱)وہ جنتی ہیں کیونکہ فطرت پر پیدا ہوئے(۲)وہ جہنمی ہیں اپنے ماں باپ کے تابع ہو کر(۳)وہ اعراف میں رہیں گے کیونکہ ان کے پاس شرعی ایمان یا کفر نہیں(۴)ان میں توقف کرو کیونکہ دلائل مختلف ہیں(۵)وہ بڑے ہو کر جیسے ہوتے ان پر وہی حکم جاری ہے یعنی چونکہ کافر ہوتے لہذا وہ جہنمی ہیں یا مؤمن ہوتے لہذا جنتی ہیں۔یہ حدیث آخری قول کی دلیل ہے۔مرقات میں ہے صحیح یہ ہے کہ وہ جنتی ہیں اور حضور کا یہ فرمان ان آیات کے نزول سے قبل ہے جن میں فرمایا گیا کہ بغیرقصور ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے،بعض نے یہ بھی فرمایا کہ یہ جنتی تو ہیں مگر مؤمن جنتیوں کے خدّام۔
|
94 -[16] وَعَن عبَادَة بن الصَّامِت قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول «إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ فَقَالَ اكْتُبْ فَقَالَ مَا أَكْتُبُ قَالَ اكْتُبِ الْقَدَرَ مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب نے جو چیز پہلے پیدا کی وہ قلم تھا ۱؎ پھر فرمایا اس کو لکھ بولا کیا لکھوں ۲؎ فرمایا تقدیر لکھ تب اس نے جو کچھ ہوچکا اور جو ہمیشہ تک ہوگا لکھ دیا ۳؎ (ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مسندًا غریب ہے۔ |
۱؎ یہ اولیّت اضافی ہے یعنی عرش،پانی ہوا اور لوح محفوظ کی پیدائش کے بعد جو چیز سب سے پہلے پیدا ہوئی وہ قلم ہے۔مرقاۃ میں اس جگہ ہے کہ سب سے پہلے نور محمدی پیدا ہوا،وہاں اولیّت حقیقیہ مراد ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ حقیقت محمدیہ ہی قلم ہے اس صور ت میں یہاں اولیت حقیقی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع