دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۳؎  یہ بار بار خاموشی یا تو اہتمامِ مسئلہ کے لیئے تھی تاکہ ابوہریرہ اسی کا جواب غور سے سنیں یا انہیں سوال سے روکنے کے لیے یعنی خصی ہونا تو کیا اس کا ذکر بھی نہ کرو۔

۴؎  یعنی اگر تمہاری تقدیر میں زنا لکھا جاچکا ہے تو خصی ہونے کے بعد بھی کرلو گے ورنہ بغیر خصی ہوئے بھی نہ کر پاؤ گے اس کلام میں خصی ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی،بلکہ اچھے طریقے سے روکا جارہا ہے کیونکہ انسان کا خصی ہونا مثلہ ہے یعنی بدن بگاڑنا اور مُثلہ اسلام میں حرام ہے یعنی بے کار چیز کے لیے حرام کا ارتکاب کیوں کرتے ہو؟۔

89 -[11]  

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُول إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلِّهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ من أَصَابِع الرَّحْمَن كقلب وَاحِد يصرفهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الله مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ». رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے عبداﷲ بن عمرو سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگوں کے سارے دل  ۱؎  اﷲ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ۲؎   ایک دل کی طرح جیسےچاہتا ہے انہیں پھیر تا ہے ۳؎  پھرفرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اے اﷲ اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دل اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے ۴؎  (مسلم)

۱؎   اس میں انبیاء،و اولیاءمؤمن ین،کفار سبھی داخل ہیں کوئی بھی رب کے قبضہ سے خارج نہیں چونکہ عام احکام شرعیہ کے مکلف صرف انسان ہیں اس لیے خصوصیت سے انسانوں کے دل کا ذکر ہوا،ورنہ فرشتوں اور جنات وغیرہم کے دل بھی رب کے قبضہ میں ہیں۔

۲؎  یہ عبارت متشابہات میں سے ہے کیونکہ رب تعالٰی  انگلیوں،ہاتھوں وغیرہ اعضاء سے پاک ہے،مقصد یہ ہے کہ تمام کے دل اﷲ کے قبضہ میں ہیں کہ نہایت آسانی سے پھیر دیتا ہے،جیسے کہا جاتا ہے تمہارا کام میری انگلیوں میں ہے،یا میں سوالات کا جواب چٹکیوں سے دے سکتا ہوں۔متشابہات کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی کے تیسرے پارے میں دیکھو۔

۳؎ برائی یا بھلائی کی طرف کہ بندہ اپنے ارادہ سے اچھے یا بُرے کام کرنے لگتا ہے۔لہذا بندہ مجبور نہیں کام ارادہ سے ہیں،ارادہ رب کی طرف سے،ورنہ سزا،جزا کا مستحق نہ ہوتا اور اختیاری اور غیراختیاری افعال میں فرق نہ ہوتا،رعشہ میں ہاتھ بے اختیارہلتاہے اور لکھتے وقت اختیار سے،کُتے کو پتھر مارو تو کتا تمہیں کاٹتا ہے نہ کہ پتھر کو،حالانکہ لگتا پتھر ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پتھر غیرمختار ہے،مارنے والا مختارہے،اگر ہم اپنے کو پتھر کی طرح مجبورسمجھیں تو جانور سے بڑھ کر بے وقوف ہیں،بہرحال اس حدیث سے جبر ثابت نہیں ہوتا۔

۴؎  یہ دعا کفار ومؤمن،نیک کارو بد کار سب ہی کے لیئے ہے یعنی بدکاروں کے دل نیکی کی طرف پھیر دے اور نیک کاروں کے دل نیکی پر قائم رکھ۔خیال رہے کہ یہ دعا درحقیقت دوسروں کے لئے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سید المعصومین ہیں ان سے گناہ ناممکن ہے،ان کے لیئے ہدایت رب تعالٰی نے ایسی لازم کردی ہے جیسے سورج کے لیے روشنی یا آگ کے لیے گرمی،اُن کی شان تو بہت بلند ہے۔ان کے خاص غلاموں سے ہدایت اور تقویٰ لازم ہے،رب تعالٰی صحابہ کرام کے بارے میں فرماتا ہے: " وَ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن